مسند الشافعی سے متعلقہ
5. بَابُ صِلَةِ الْوَالِدِ وَالْأَخِ الْمُشْرِكِ
مشرک باپ اور بھائی کے ساتھ حسنِ سلوک کا بیان
حدیث نمبر: 1059
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ ص: 305 ] عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ:"نَعَمْ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا: میری ماں قریش کے عہد میں میرے پاس آئیں اور وہ مسلمان نہیں تھیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [مسند الشافعی/كِتَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ وَالهِبَةِ وَصِلَةِ الوَالِدِ وَالأَخِ المُشْرِكِ/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الهبة، وفضلها، باب الهدية للمشركين (2620) ومسلم، الزكاة، باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين.... الخ (1003).»
حدیث نمبر: 1060
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ". ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً. فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا". فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (سیراء کا ایک ریشمی) حلہ مسجد کے دروازے کے پاس دیکھا تو فرمایا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں تو جمعہ کے دن اور جب آپ کے پاس وفد آئیں تو پہن لیا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی پہن سکتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کئی حلے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ عمر رضی اللہ عنہ کو بھی دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے یہ دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد کے حلے کے متعلق پہلے جو کہا تھا وہ کہا ہے؟ (یعنی پہننے سے منع فرمایا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس لیے نہیں دیا کہ تو اسے پہنے۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اپنے ایک مشرک بھائی کو وہ پہننے کے لیے بھیج دیا۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ وَالهِبَةِ وَصِلَةِ الوَالِدِ وَالأَخِ المُشْرِكِ/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الهبة وفضلها، باب هدية ما يكره لبسها (2612) ومسلم، اللباس والزينة، باب تحريم لبس الحرير وغير ذلك للرجال (2068).»