🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ مَوْعِظَةِ الإِمَامِ النِّسَاءَ يَوْمَ الْعِيدِ:
باب: امام کا عید کے دن عورتوں کو نصیحت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ خَطَبَ فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ"، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ، قُلْتُ: أَتُرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ، قَالَ: إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَهُ.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو میں نے یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبر نہیں لے کر جاتے تھے۔ تو اس اترے سے مراد بلند جگہ سے اترے) اور عورتوں کی طرف آئے۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے (وغیرہ) برابر ڈال رہی تھیں۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 978]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، یعنی نماز سے آغاز کیا، پھر خطبہ دیا، جب فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے، انہیں نصیحت فرمائی جبکہ آپ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں خیرات ڈال رہی تھیں۔ (راوی کہتا ہے:) میں نے عطاء سے دریافت کیا: کیا وہ صدقہ فطر ڈال رہی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اس وقت ایسے ہی خیرات کر رہی تھیں۔ اگر ایک عورت اپنی انگوٹھی ڈالتی تو دوسری عورتیں بھی ڈالتی تھیں۔ میں نے (عطاء سے) دریافت کیا: آپ کے خیال کے مطابق کیا امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ان کے ذمے تو ہے لیکن نہ معلوم وہ کیوں نہیں کرتے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 979
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يُخْطَبُ بَعْدُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا: أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ: لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا، نَعَمْ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاءٌ أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: الْفَتَخُ الْخَوَاتِيمُ الْعِظَامُ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ابن جریج نے کہا کہ حسن بن مسلم نے مجھے خبر دی، انہیں طاؤس نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھنے گیا ہوں۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں الآیہ۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں۔ ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی، حسن کو معلوم نہیں کہ بولنے والی خاتون کون تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ عبدالرزاق نے کہا «فتخ» بڑے (چھلے) کو کہتے ہیں جس کا جاہلیت کے زمانہ میں استعمال تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 979]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں عید الفطر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ شریک ہوا۔ یہ تمام حضرات نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھتے، پھر خطبہ دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ اپنے ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے، پھر آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے۔ آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ [سورة الممتحنة: 12] اے نبی! جب آپ کے پاس اہل ایمان خواتین بیعت کے لیے حاضر ہوں۔۔ پھر جب آپ اس کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم سب اس وعدے پر قائم ہو؟ تو ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے علاوہ کسی عورت نے آپ کی بات کا جواب نہ دیا۔ (راویِ حدیث) حسن کہتے ہیں کہ اس عورت کے متعلق علم نہیں وہ کون تھی؟ آپ نے فرمایا: تم صدقہ و خیرات کیا کرو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ تم لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! چنانچہ وہ عورتیں اپنی انگوٹھیاں اور چھلے بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ امام عبد الرزاق نے کہا: «الْفَتَخُ» سے مراد بڑی انگوٹھیاں ہیں جن کا عہد جاہلیت میں رواج تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں