السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. (بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ بِالْإِشَارَةِ)
(نماز میں اشارے سے سلام کا جواب)
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ , عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَابِلٍ، صَاحِبِ الْعَبَّاسِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ:" مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً , وَقَالَ: لا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ: قَدْ أَشَارَ بِأُصْبُعِهِ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے میں نے سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے جواب دیا راوی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے علم کے مطابق سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الصلاة، باب رد السلام فی الصلاة، رقم: 925؛ سنن ترمذی، الصلاة، باب ماجاء فی الاشارة فی الصلاة، رقم: 367؛ سنن نسائی، السهو، باب رد السلام بالاشارة فی الصلاة، رقم: 1186.»
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ وَهُوَ يَسِيرُ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَأَشَارَ إِلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي , فَقَالَ:" إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي" , وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوچ کر رہے تھے میں نے سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا (حالت نماز میں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تو نے ابھی سلام کیا تھا اور میں نماز میں تھا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف جارہے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب تحریم الکلام فی الصلاة ونسخ ما کان من اباحة، رقم: 540.»
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ , فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلاةِ , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لأُسَلِّمَ عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ , فَجَلَسْتُ , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاتَهُ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ , وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لا تَتَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ".
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت حبشہ سے پہلے حالت نماز میں سلام کہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں ہی جواب دے دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں خدمت رسالت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرلوں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں پایا، سلام کیا لیکن جواب نہ ملا مجھے کئی قسم کے خیالات نے آگھیرا، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے دین میں جو چاہتا ہے نیا حکم صادر فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ نے نیا حکم دیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «سنن النسائی، السهو، باب الکلام فی الصلاة، رقم: 1221؛ مسند احمد: 6/46، رقم: 3757.»