السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. (باب رد السلام فى الصلاة بالإشارة)
(نماز میں اشارے سے سلام کا جواب)
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ , فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلاةِ , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لأُسَلِّمَ عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ , فَجَلَسْتُ , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاتَهُ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ , وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنَّهُ قَضَى أَنْ لا تَتَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ".
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت حبشہ سے پہلے حالت نماز میں سلام کہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں ہی جواب دے دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں خدمت رسالت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرلوں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں پایا، سلام کیا لیکن جواب نہ ملا مجھے کئی قسم کے خیالات نے آگھیرا، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے دین میں جو چاہتا ہے نیا حکم صادر فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ نے نیا حکم دیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صلاة الخوف/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «سنن النسائی، السهو، باب الکلام فی الصلاة، رقم: 1221؛ مسند احمد: 6/46، رقم: 3757.»
Sunan Shafi Hadith 63 in Urdu