🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

186. (بَابُ صَوْمِ الْجُنُبِ)
(جنابت کی حالت میں روزہ رکھنا)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تو غسل فرماتے اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ صِيَامِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الصوم، باب اغتسال الصائم، رقم: 1931، مسلم، الصيام، باب صحة صوم من طلع ...... الخ، رقم: 1109 صحیح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے میں کھڑے تھے اور میں سن رہی تھی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبح جنابت کی حالت میں کرتا ہوں جبکہ میرا ارادہ روزے کا ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میرا ارادہ روزے کا ہوتا ہے تو غسل کرتا ہوں پھر اُس دن روزہ بھی رکھتا ہوں تو وہ آدمی کہنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہماری مانند نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پہلے پچھلے اللہ نے معاف کر دیے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے پھر فرمایا: اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ ان چیزوں کو جانتا ہوں جن سے بچنا چاہیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ صِيَامِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الصوم، باب فيمن أصبح جنبا في شهر، رقم: 2389 وقال الالباني: صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟! قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لا وَاللَّهِ، قَالَتْ: فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ"، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلَتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" لا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ".
ابو بکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد عبدالرحمن رضی اللہ عنہ امیر مدینہ مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس تھے تو اس سے ذکر کیا گیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کی صبح جنابت کی حالت میں ہو جائے وہ اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ افطار کرے۔ تو مروان رحمہ اللہ نے کہا اے عبدالرحمن! تجھے قسم ہے جاؤ اور جا کر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ پوچھ کر آؤ۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم عبد الرحمن کے ساتھ میں بھی گیا جب حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں داخل ہوئے تو سلام کیا پھر عبد الرحمن نے پوچھا: اے ام المومنین! ہم مروان کے پاس تھے کہ اسے بتایا گیا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فتوی دیتے ہیں کہ جس نے سحری تک غسل نہ کیا جنابت میں صبح کر لی اس دن کا روزہ افطار کرے (یعنی حالت جنابت میں روزہ نہیں رکھ سکتا)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی مسئلہ اس طرح بالکل نہیں جیسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا اے عبدالرحمن! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑے گا؟ عبدالرحمن نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! تو فرمانے لگی کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر یعنی ہمبستری سے جنبی ہوتے پھر اس دن کا روزہ بھی رکھتے۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں پھر ہم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گئے انہیں سلام کیا اور یہی مسئلہ پوچھا تو اُن کا جواب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والا تھا ہم وہاں سے نکلے مروان کے ہاں آئے تو عبدالرحمن نے انہیں دونوں کے جواب سے آگاہ فرمایا تو مروان نے پھر قسم دی کہ اے ابا محمد! دروازے پر میری سواری ہے اس پر سوار ہو کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ اپنی زمین عقیق میں ہیں (اس وقت) انہیں ضرور مسئلہ بتاؤ۔ ابو بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن سوار ہوئے تو میں بھی اُن کے ساتھ ہو لیا حتی کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے کچھ دیر عبدالرحمن اُن سے بات چیت کرتے رہے پھر اُن سے مسئلہ کا تذکرہ کیا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے (بروئے حدیث) اس کا علم نہیں مجھے کسی نے اس طرح بتایا تھا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ صِيَامِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: «صحیح بخارى، الصيام، باب الصائم يصبح جنبا، رقم: 1926، صحیح مسلم،الصيام، باب صحة صوم من طلع ...... الخ، رقم: 1109»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُمَا قَالَتَا:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلامٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ".
ابو بکر بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میں جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے احتلام سے نہیں، تو پھر (اسی حالت میں) روزہ بھی اس دن کا رکھ لیتے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ صِيَامِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الصوم، باب فيمن اصبح جنبا في شهر رمضان، رقم: 2388 وقال الالباني: صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں