🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

90. باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ:" إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمُ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِين، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلَا تُنْزِلْهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللَّهُ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ"، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے، اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا، (سب سے پہلے) انہیں اسلام کی جانب بلانا، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کر لیں تو تم اسے قبول کر لینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہو گی جو مہاجرین کے لیے ہو گی، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لینا اور جہاد کرنے سے رک جانا، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا، اور ان سے جہاد کرنا، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتارو، تو تم انہیں اللہ کے حکم پر مت اتارنا، اس لیے کہ تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ان کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرے گا، لیکن ان کو اپنے حکم پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے سلسلے میں تم جو چاہو فیصلہ کرنا۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم نے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابن ہیصم ہیں، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور نعمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2612]
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (کسی شخص کو) کسی دستے یا کسی بڑے لشکر کا امیر بنا کر روانہ کرتے تو اسے خود اپنی ذات میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنی معیت میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمن کے مقابلے پر آؤ تو انہیں تین باتوں کی دعوت دو، وہ جسے بھی اختیار کرنا چاہیں کر لیں اور پھر جو وہ اختیار کر لیں اسے قبول کر لینا اور اپنے ہاتھ کو ان سے روک لینا۔ (اولاً) انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ اسے قبول کر لیں تو تم بھی ان سے قبول کر لو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ پھر انہیں دعوت دو کہ وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر دارالمہاجرین میں منتقل ہو جائیں اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے یہ امر قبول کر لیا تو ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں اور ان پر وہ سب کچھ واجب ہو گا جو ان مہاجرین پر واجب ہے، اگر وہ منتقل ہونا قبول نہ کریں اور اپنے علاقوں ہی میں رہنا چاہیں، تو انہیں بتانا کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا حکم اسی طرح نافذ ہو گا جیسے کہ دیگر مومنین پر نافذ ہوتا ہے، (مال) فے اور غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، سوائے اس کے کہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔ (2) پس اگر وہ لوگ اسلام قبول کرنے سے انکاری ہوں تو انہیں کہنا کہ جزیہ دینا قبول کریں، اگر وہ اس پر راضی ہو جائیں تو اسے قبول کر لینا اور اپنا ہاتھ ان سے روک لینا۔ (3) اگر وہ جزیہ دینے پر راضی نہ ہوں تو اللہ کی مدد طلب کرتے ہوئے ان سے قتال کرنا۔ اور جب تم کسی قلعے والوں کا محاصرہ کر لو اور پھر وہ تم سے یہ چاہیں کہ ان کو ہتھیار ڈالنے دو، اس شرط پر کہ ان پر اللہ کا حکم نافذ ہو تو یہ بات قبول نہ کرنا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ کیا ہے، لیکن انہیں اپنی شرطوں اور فیصلے کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی اجازت دو اور پھر جو چاہو ان کے متعلق فیصلہ کرو۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھے مسلم نے بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس (مسلم) سے مراد مسلم بن ہیصم ہے، اس نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا جیسے کہ سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 2 (1731)، سنن الترمذی/السیر 48 (1617)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 38 (2858)، (تحفة الأشراف: 1929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/352، 358)، سنن الدارمی/السیر 5 (2483) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1731)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں غزوہ کرو اور اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے، غزوہ کرو، بدعہدی نہ کرو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2613]
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اُغْزُوا بِاسْمِ اللهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، اُغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا» اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں غزوہ کرو اور اللہ کا انکار کرنے والوں سے قتال کرو۔ غزوہ کرو، غدر نہ کرو، (غنیمت میں) خیانت نہ کرو، مقتولین کے اعضا نہ کاٹو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1929) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2613)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2614
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً وَلَا تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجاہدین کو رخصت کرتے وقت) فرمایا: تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2614]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے، «وَبِاللّٰهِ» اللہ کی مدد حاصل کرتے ہوئے اور «وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر قائم رہتے ہوئے (اور اس کی دعوت دیتے ہوئے) کسی بڈھے کھوسٹ کو قتل نہ کرنا، نہ کسی بچے یا نابالغ کو اور نہ کسی عورت کو۔ (غنیمت میں) خیانت سے باز رہنا، غنائم کو جمع رکھنا اور اصلاح کا معاملہ کرنا، نیکی اور احسان اپنانا، بلاشبہ ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 195] اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 824) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی خالد بن فزر لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن الفرز ضعفه ابن معين وغيره ولم يوثقه غير ابن حبان فھو : مجهول أو ضعيف
انظرالتحرير (1665)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں