🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

91. باب فِي الْحَرْقِ فِي بِلاَدِ الْعَدُوِّ
باب: دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ البُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا (یہ مقام بویرہ میں تھا) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها» کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا (سورۃ الحشر: ۵)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2615]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بویرہ مقام پر قبیلہ بنو نضیر کی کھجوریں جلائی تھیں اور کاٹی بھی تھیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا﴾ [سورة الحشر: 5] جو کھجوریں تم نے کاٹ ڈالیں یا جڑوں پر قائم رہنے دیں سو وہ اللہ کے حکم سے تھا، اور تاکہ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو رسوا کر دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المزارعة 4 (2356)، الجھاد 154 (3020)، المغازي 14 (4031)، صحیح مسلم/الجھاد 10 (1746)، سنن الترمذی/التفسیر 59 (3302)، والسیر 4 (1552)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 31 (2844)، (تحفة الأشراف: 8267)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/السیر 23 (2503)، مسند احمد (2/123، 140) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4884) صحيح مسلم (1746)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2616
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ، فَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَغِرْ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا وَحَرِّقْ.
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت کی تھی اور فرمایا تھا: ابنی ۱؎ پر صبح سویرے حملہ کرو اور اسے جلا دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2616]
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ «أُبْنَىٰ» کے علاقے پر صبح کے وقت چڑھائی کرنا اور اسے جلا دینا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجھاد 31 (2843)، (تحفة الأشراف: 107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/205، 209) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی صالح ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: فلسطین میں رملہ اور عسقلان کے مابین ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2843)
صالح بن أبي الأخضر: ضعيف يعتبر به (تق :2844) و قال البوصيري : لينه الجمھور (زوائد ابن ماجه للبوصيري : 1098) و قال الھيثمي : و قد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 150/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2617
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، سَمِعْتُ أَبَا مُسْهِرٍ قِيلَ لَهُ: أُبْنَى، قَالَ: نَحْنُ أَعْلَمُ هِيَ يُبْنَى فِلَسْطِينَ.
عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ ابومسہر کے سامنے ابنیٰ کا تذکرہ آیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: ہم جانتے ہیں یہ یُبنی ہے جو فلسطین میں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2617]
عبداللہ بن عمرو غزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابومسہر رحمہ اللہ سے سنا، ان سے «اِبْنِي» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ہم اس کے متعلق خوب جانتے ہیں کہ یہ فلسطین میں «يِبْنَا» کے نام سے معروف جگہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18949) (مقطوع)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں