السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
306. (بَابُ وُقُوفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ)
(نبی کریم ﷺ کا وقوفِ عرفہ)
حدیث نمبر: 462
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا مِنَ الْحُمْسِ فَمَا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ؟ يَعْنِي بِالْحُمْسِ قُرَيْشًا، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَتَقُولُ: نَحْنُ الْحُمْسُ لا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یوم عرفہ کو میں گم شدہ اونٹ کی تلاش میں عرفہ گیا تو دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف فرما رہے ہیں میں نے (دل میں) کہا یہ تو حمس سے نکل گئے ہیں، انہیں کیا ہوا حرم سے نکل آئے ہیں یعنی حمس قریش سے، قریشی وقوف مزدلفہ میں کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حمس ہیں حدود حرم سے ہم باہر نہیں جائیں گے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 462]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب الوقوف بعرفۃ، رقم: 1664، صحیح مسلم، الحج، باب فی الوقوف وقولہ تعالیٰ «ثُمَّ أَفِيضُوا ..... الخ» ، رقم: 1220.»