🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

400. (بَابُ حُكْمِ دِيَةِ الْجَنِينِ)
(جنین کی دیت کا شرعی حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ"، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: وَكَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے ماں کے پیٹ میں قتل کیا گیا ہو اس کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی دیئے جانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جسے دیت پڑی کہنے لگا: ایسے بچے کی کیسے چٹی بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ آواز نکالی ایسے کی دیت کیسے پڑگئی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ کاہنوں کا بھائی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ عَقْلِ الْجَنِينِ/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ برقم: 593.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَأً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي الْجَنِينِ بِشَيْءٍ"، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ لِي يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ، فَقَامَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودِ بَيْتِهَا فَضَرَبَتْهَا بِهِ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ". فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی یاد دلا کر لوگوں سے پوچھا: کیا کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین کے بارے میں کوئی فیصلہ سنا ہے؟ حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے کہنے لگے میری دو بیویاں سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ایک نے دوسری کو خیمے کے ستون سے مارا تو اسے قتل کر دیا اس کے پیٹ کے بچے کو بھی قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کے بارے میں فیصلہ دیا)۔ اس کے عوض غلام یا لونڈی دی جائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر اگر ہم یہ نہ سنتے تو اس کے برعکس فیصلہ کر جاتے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ عَقْلِ الْجَنِينِ/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الدیات، باب دیة الجنین رقم: 4573، سنن نسائی، القسامة، باب دیة جنین المرأة، رقم: 4739 وقال الالبانی: صحیح الاسناد.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں