سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ
باب: شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2859
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صحراء اور بیابان میں رہے گا اس کا دل سخت ہو جائے گا، اور جو شکار کے پیچھے رہے گا وہ (دنیا یا دین کے کاموں سے) غافل ہو جائے گا، اور جو شخص بادشاہ کے پاس آئے جائے گا وہ فتنہ و آزمائش میں پڑے گا (اس سے دنیا بھی خراب ہو سکتی ہے اور آخرت بھی)“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2859]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بادیہ (جنگل) کی سکونت اختیار کی، وہ سخت دل ہوا، اور جو شکار کے پیچھے پڑا، وہ غافل ہوا اور جو حاکم کے پاس آتا جاتا رہا، آزمائش میں پڑا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 69 (2256)، سنن النسائی/الصید 24 (4314)، (تحفة الأشراف: 6539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/357) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3701)
أخرجه الترمذي (2253 وسنده حسن) أبو موسي شيخ يماني: جھله ابن القطان وغيره و وثقه ابن حبان والترمذي فھو حسن الحديث
مشكوة المصابيح (3701)
أخرجه الترمذي (2253 وسنده حسن) أبو موسي شيخ يماني: جھله ابن القطان وغيره و وثقه ابن حبان والترمذي فھو حسن الحديث
حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ، قَالَ:" وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ زَادَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ”جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا“ اور اتنا اضافہ ہے: ”جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2860]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بادشاہ کی صحبت اختیار کی، فتنے میں پڑا۔“ اور مزید فرمایا: ”جو بندہ کسی بادشاہ کے جس قدر قریب ہو گا، اللہ تعالیٰ سے اسی قدر بعید ہو جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371، 440) (ضعیف) (اس کے ایک راوی شیخ من الانصار مبہم ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ شيخ من الأنصار ‘‘ : لم أعرفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
إسناده ضعيف
’’ شيخ من الأنصار ‘‘ : لم أعرفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2861]
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم شکار کو (تیر) مارو اور پھر تین رات کے بعد اسے پاؤ جبکہ تمہارا تیر اس میں ہو تو اسے کھا لو، جب تک کہ بو نہ دینے لگے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 2 (1931)، سنن النسائی/الصید 20 (4308)، (تحفة الأشراف: 11863)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/194) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تیر کے موجود رہنے کی شرط اس لئے ہے کہ شکاری کو یہ یقین ہو جائے کہ شکار کی موت کا سبب شکاری کا تیر ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز اس کی موت کا سبب بنی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1931)