🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب فِي النَّوْحِ
باب: نوحے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3127]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18122)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 45 (1306)، والأحکام 49 (7215)، صحیح مسلم/الجنائز 10 (936)، سنن النسائی/البیعة 18 (4158)، مسند احمد (6/407، 408) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7215)
وله طريق آخر عند مسلم (936)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3128
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ (دلچسپی سے) سننے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3128]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/65) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوة: محمد، ان کے والد اور دادا سب ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال أبو حاتم الرازي: ’’ حديث منكر،محمد بن الحسن (بن عطية العوفي) وأبوه وجده،ضعفاء في الحديث ‘‘ (علل الحديث 369/1 ح 1095)
وانظر حديث : 452 لضعف عطية العوفي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3129
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، وأبي معاوية، المعني عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: وَهِلَ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ؟ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ". ثُمَّ قَرَأَتْ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164. قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: عَلَى قَبْرِ يَهُودِيٍّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے ۱؎، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا: ان سے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، سچ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں، پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (سورۃ الإسراء: ۱۵) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں «على قبر» کے بجائے «على قبر يهودي» ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3129]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کی گئی، تو انہوں نے کہا: (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے، تو فرمایا تھا: بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ ہناد نے ابومعاویہ سے روایت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کی قبر کے پاس سے گزرے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 9 (931)، سنن النسائی/الجنائز 15 (1856)، (تحفة الأشراف: 7324، 17069، 17226)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 8 (3978)، مسند احمد (2/38، 6/39، 57، 95، 209) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎«إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے، حالاں کہ رونا یا نوحہ کرنا بذات خود میت کا عمل نہیں ہے، پھر غیر کے عمل پر اسے عذاب دیا جانا باعث تعجب ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  «ولا تزر وازرة وزر أخرى»  کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ مرنے والے کو اگر یہ معلوم ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے مجھ پر نوحہ کریں گے اور اس نے قدرت رکھنے کے باوجود قبل از موت اس سے منع نہیں کیا تو نہ روکنا اس کے لئے باعث سزا ہو گا، اور اس کے گھر والے اگر آہ و بکا کئے بغیر آنسو بہا رہے ہیں تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابراہیم اور ام کلثوم کے انتقال پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پوچھے جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو رحمت ہے اللہ نے جس کے دل میں چاہا رکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3979، 3980، 3981) صحيح مسلم (932)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ ثَقِيلٌ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَبْكِيَ، أَوْ تَهُمَّ بِهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَسَكَتَتْ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَى، قَالَ يَزِيدُ: لَقِيتُ الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا قَوْلُ أَبِي مُوسَى لَكِ: أَمَا سَمِعْتِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَكَتِّ؟ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ، وَمَنْ سَلَقَ، وَمَنْ خَرَقَ".
یزید بن اوس کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہو گئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قول: کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے پھر آپ چپ ہو گئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو (میت کے غم میں) اپنا سر منڈوائے، جو چلا کر روئے پیٹے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3130]
سیدنا یزید بن اوس کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا جب کہ وہ (بیماری کے باعث) بہت ہی تکلیف میں تھے، تو ان کی بیوی رونے لگی یا اس کی تیاری کرنے لگی۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا؟ کہنے لگی: ہاں، میں نے سنا ہے۔ چنانچہ وہ خاموش ہو رہی۔ جب سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو یزید کہتے ہیں کہ میں اس خاتون سے ملا اور اس سے پوچھا کہ وہ کیا بات تھی جو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہی تھی کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا اور پھر آپ خاموش ہو رہی تھیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جو کوئی (مصیبت میں) بال مونڈے یا بین کرے (یا منہ پیٹے) یا کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجنائز 20 (1866)، (تحفة الأشراف: 18334)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1586)، مسند احمد (4/396، 404، 405، 411، 416) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ کفر کی رسم تھی جب کوئی مر جاتا تو اس کے غم میں یہ سب کام کئے جاتے تھے، جس طرح ہندؤوں میں بال منڈوانے کی رسم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں صبر کرنا لازم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد عند البخاري (1296) ومسلم (104)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّبَذَةِ، حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، قَالَتْ:" كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا، أَنْ لَا نَعْصِيَهُ فِيهِ: أَنْ لَا نَخْمُشَ وَجْهًا، وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا، وَلَا نَشُقَّ جَيْبًا، وَأَنْ لَا نَنْشُرَ شَعَرًا".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3131]
سیدنا اسید بن ابی اسید رحمہ اللہ ایک خاتون رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو عہد لیے تھے کہ ﴿نیکی کے کاموں میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گی﴾ [سورة الممتحنة: 12] ، اس میں یہ بھی تھا کہ چہرہ نہیں نوچیں گی، ہائے وائے نہیں کریں گی، کپڑے نہیں پھاڑیں گی اور بال نہیں نوچیں گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18366) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں