سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةُ مُشْرِكٍ
باب: مسلمان کا مشرک رشتہ دار مر جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3214
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، قَالَ: اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي، فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ، وَجِئْتُهُ، فَأَمَرَنِي، فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا“، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3214]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنے والد کو زمین میں دبا آؤ، پھر کوئی کام نہ کرنا حتیٰ کہ میرے پاس آ جانا۔“ چنانچہ میں گیا اور اسے زمین میں دبا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے غسل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 84 (2008)، (تحفة الأشراف: 10287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/97، 131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أبو إسحاق صرح بالسماع عند النسائي (190 وسنده حسن، 2008)
أبو إسحاق صرح بالسماع عند النسائي (190 وسنده حسن، 2008)