سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب مَنْ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَدْرَكَ الإِسْلاَمَ
باب: زمانہ جاہلیت میں نذر مانی پھر مسلمان ہو گیا تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3325
حدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3325]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کے لیے اعتکاف کروں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتکاف 5 (2032)، 15 (2042)، 16 (2043)، الخمس 19 (3144)، المغازي 54 (4320)، الأیمان 29 (6697)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، سنن الترمذی/الأیمان 11 (1539)، سنن النسائی/الأیمان 35 (3851)، سنن ابن ماجہ/الصیام 60 (1772)، الکفارات 18 (2129)، (تحفة الأشراف: 10550)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/37، 2/20، 82، 153)، سنن الدارمی/النذور 1 (2378) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2032) صحيح مسلم (1656)
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ