سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ
باب: چارہ روکنے کے لیے پانی کو روکنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3473
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3473]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاس محفوظ رکھنے کی غرض سے زائد پانی نہ روکا جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12357)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 2 (2353)، صحیح مسلم/المساقاة 8 (1566)، سنن الترمذی/البیوع 45 (1272)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 19 (2428)، موطا امام مالک/الأقضیة 25 (29) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پلانے کے لیے لوگ پانی نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لئے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (2353) ومسلم (1566)
رواه البخاري (2353) ومسلم (1566)
حدیث نمبر: 3474
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، يَعْنِي كَاذِبًا، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام (و سربراہ) سے (وفاداری کی) بیعت کرے پھر اگر امام اسے (دنیاوی مال و جاہ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3474]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے آدمیوں سے اللہ عز وجل قیامت کے روز کلام نہیں فرمائے گا: ایک وہ آدمی جس نے کسی مسافر سے اپنا بقیہ پانی روک لیا ہو۔ دوسرا وہ جس نے عصر کے بعد کسی سودے پر جھوٹی قسم کھائی ہو اور تیسرا وہ جس نے امام (اعلیٰ) سے بیعت کی ہو، اگر وہ اسے (دنیا کا مال) دیتا رہے، تو اس کا وفادار رہے اور اگر نہ دے، تو وفا نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، (تحفة الأشراف: 12472)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشھادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، المساقاة 10 (2369)، صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، سنن النسائی/البیوع 6 (4467)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2207)، الجھاد 42 (2870)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2672) صحيح مسلم (108)
حدیث نمبر: 3475
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، وَقَالَ فِي السِّلْعَةِ: بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ فَأَخَذَهَا.
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“ اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے: قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے (منہ مانگا پیسہ دے کر) لے لے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3475]
جناب اعمش نے اس روایت کو اپنی سند سے اسی حدیث کے ہم معنی بیان کیا، کہا: ” ﴿وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] اور اللہ ایسے لوگوں کو پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔“ اور فروخت کے سامان کے بارے میں کہا کہ یوں کہے: ” «بِاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم! مجھے اس کا اتنا اتنا دیا گیا (مگر میں نے نہیں دیا لیکن تمہیں کم میں دے رہا ہوں) اور دوسرا اس کو (اس کی اس بات میں) سچا سمجھے اور اسے خرید لے۔“” [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الشہادات 22 (2672)، صحیح مسلم/ الإیمان 46 (108)، سنن النسائی/ البیوع 6 (4467)، (تحفة الأشراف: 12338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2672) صحيح مسلم (108)
حدیث نمبر: 3476
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ:" اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: الْمِلْحُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ".
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی“ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمک“ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنی بھی تو نیکی کرے (یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے) تیرے لیے بہتر ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3476]
بہیسہ رضی اللہ عنہا اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کی اجازت لی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے اندر سے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چمٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومنے لگے، پھر کہنے لگے: ”اے اللہ کے نبی! کس چیز کا روکنا حلال نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کا۔“ پھر انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! کس چیز کا روکنا حلال نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمک کا۔“ انہوں نے پھر کہا: ”اے اللہ کے نبی! کس چیز کا روک لینا حلال نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی کرتے رہنے میں تمہارے لیے خیر ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1669)، (تحفة الأشراف: 15697) (ضعیف)» (اس کے راوی، اس کے رواة سیار اور ان کے والد منظور لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق نحوه (1669)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق نحوه (1669)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُئِيُّ، أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَرْنٍ. ح، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو خِدَاشٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، أَسْمَعُهُ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْكَلَإِ، وَالْمَاءِ، وَالنَّار".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: ”مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں (یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں): (ا) پانی (نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو)، (۲) گھاس (جو لاوارث زمین میں ہو) اور (۳) آگ (جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو)“۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3477]
مہاجرین صحابہ میں سے کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد میں شرکت کی ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مسلمان تین چیزوں میں ایک دوسرے کے شریک ہیں: گھاس، پانی اور آگ۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (5/314) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3001)
مشكوة المصابيح (3001)