سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ
باب: مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3569
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ، فَأَفْسَدَتْهُ عَلَيْهِمْ،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ".
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3569]
حرام بن محیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک آدمی کے باغ میں داخل ہو گئی اور ان کی کھیتی خراب کر دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”کھیتی والوں کے ذمے ہے کہ دن کو اس (کھیتی) کی حفاظت کریں اور جانوروں کے مالکوں پر لازم ہے کہ رات کو ان کی حفاظت کریں (باندھ کر رکھیں)۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 13 (2332)، (تحفة الأشراف: 1753، 2332)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/436)، موطا امام مالک/الأقضیة 28(37) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر اونٹنی نے رات میں باغ کو نقصان پہنچایا ہے تو اونٹنی کا مالک اس نقصان کو پورا کرے گا، اور اگر دن میں نقصان پہنچائے تو باغ کا مالک اس نقصان کو برداشت کرے، کیونکہ باغ کی حفاظت خود اسی کی اپنی ذمہ داری تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري مدلس (تقدم : 145) وعنعن
وانظر الحديث الآتي (3570)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
إسناده ضعيف
الزھري مدلس (تقدم : 145) وعنعن
وانظر الحديث الآتي (3570)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الَأوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الَأنْصَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِب، قَالَ: كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِبَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِط بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَة بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَة مَا أَصَابَتْ مَاشيِتهُمْ بِاللَّيْلِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے پاس ایک ہرہٹ اونٹنی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: ”دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے“۔ (اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3570]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میری ایک اونٹنی تھی جو بہت نقصان کیا کرتی تھی۔ تو وہ ایک باغ میں داخل ہو گئی اور وہاں نقصان کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”دن کے وقت باغات کی نگرانی اور حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانوروں کی نگرانی ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کر جائیں، تو وہ ان کے مالکوں کے ذمے ہے (کہ اسے پورا کریں)۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1753) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2332)
وانظر الحديث السابق (3569)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2332)
وانظر الحديث السابق (3569)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126