🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ
باب: علم کے لکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3646
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ، وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3646]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا وہ سب لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے حفظ کر لوں۔ تو (بعض) قریشیوں نے مجھے منع کیا۔ انہوں نے کہا: تو ہر بات، جو سنتا ہے، لکھ لیتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں غصے اور خوشی (دونوں حالتوں) میں گفتگو کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا موقوف کر دیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دہن مبارک کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/162، 192)، سنن الدارمی/المقدمة 43 (501) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3647
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ، فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ".
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3647]
مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے منقول ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے تو انہوں نے ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا: اسے لکھ لو۔ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم ان کی کوئی حدیث ضبطِ تحریر میں نہ لائیں۔ چنانچہ انہوں نے اسے مٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3740)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راواة کثیر اور مطلب متکلم فیہ ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
المطلب لم يسمع من زيد بن ثابت رضي اللّٰه عنه (انظر جامع التحصيل ص281) ولم يلق معاوية رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3648
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" مَا كُنَّا نَكْتُبُ غَيْرَ التَّشَهُّدِ وَالْقُرْآنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہیں لکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3648]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4258) (شاذ)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابو شہاب حَنَّاط حافظہ کے کمزور ہیں، اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت تو یہ ہے کہ قرآن کے سوا اور کچھ مت لکھو)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3649
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْخُطْبَةَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شَاهَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ: اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جاتا تھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے (یہ خطبہ) لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3649]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کا ذکر کیا، تو اہل یمن کا ایک آدمی کھڑا ہوا، اس کا نام ابوشاہ تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے لکھ دیجیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوشاہ کو لکھ دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2017)، (تحفة الأشراف: 15383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2434) صحيح مسلم (1355)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3650
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرٍو:" مَا يَكْتُبُوهُ؟" قَالَ:" الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا يَوْمَئِذٍ مِنْهُ".
ولید (ولید بن مزید) کہتے ہیں میں نے ابوعمرو (اوزاعی) سے کہا: وہ لوگ لکھ دیں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خطبہ جسے آپ سے اس روز ابوشاہ نے سنا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3650]
ولید (ولید بن مزید) نے کہا کہ میں نے ابوعمرو (اوزاعی رحمہ اللہ) سے پوچھا کہ اس نے کیا چیز لکھوائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ وہی خطبہ جو اس نے اس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2017)، (تحفة الأشراف: 15383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أبو عمرو الأوزاعي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں