سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب فِي الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا پینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ بِهِ إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3723]
جناب ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، انہوں نے پانی طلب کیا تو ایک دہقان چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، تو انہوں نے اسے پھینک مارا اور پھر کہا: ”میں نے اسے بلاوجہ نہیں پھینکا بلکہ میں اس کو اس سے پہلے منع کر چکا ہوں، مگر یہ باز نہیں آیا۔ اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْحَرِيرِ» ”حریر“ اور «الدِّيبَاجِ» ”دیباج“ سے منع فرمایا ہے (حریر عام ریشم اور دیباج باریک ریشم کو کہتے ہیں) اور سونے چاندی کے برتنوں میں پینے سے روکا ہے اور فرمایا ہے: ”یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطمعة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی33 (5303)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408)، دی/ الأشربة 25 (2176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5632) صحيح مسلم (2067)