سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب فِي الْكَرْعِ
باب: نہر سے منہ لگا کر پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا، قَالَ: بَلْ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم منہ لگا کر نہر ہی سے پانی پی لیتے ہیں“ اس نے کہا: نہیں بلکہ میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3724]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک صحابی کے ساتھ ایک انصاری کے ہاں تشریف لے گئے جب کہ وہ اپنے باغ میں پانی لگا رہا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس ایسا پانی ہے جو رات بھر مشکیزے میں ہو (تو لے آؤ) ورنہ ہم کنوئیں کے حوض میں جمع شدہ پانی ہی منہ لگا کر پی لیتے ہیں۔“ اس نے کہا: ”ہاں، میرے پاس مشکیزے میں رات کا پانی موجود ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 20 (5613)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 25 (3432)، (تحفة الأشراف: 2250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/328، 343، 344)، سنن الدارمی/الأشربة 22 (2169) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر، نالی اور دریا سے منہ لگا کر پانی پی لینا اس صورت میں صحیح ہے کہ جب کوئی برتن ساتھ میں نہ ہو، لیکن ہاتھ سے پینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5621)