🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب
باب:۔۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4279
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ، فَسَمِعْتُ كَلَامًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَفْهَمْهُ، قُلْتُ لِأَبِي مَا يَقُولُ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4279]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: یہ دین قائم رہے گا حتیٰ کہ اس پر بارہ خلیفے آئیں گے اور ان سب پر امت متفق ہو گی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنی مگر میں اسے سمجھ نہ سکا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2134)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 51 (7222)، صحیح مسلم/الإمارة 1 (1821)، سنن الترمذی/الفتن 46 (2224)، مسند احمد (5/86، 88، 96، 105) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس میں:  «تجتمع علیہ الأمة»  کا ٹکڑا منکر ہے، صحیح نہیں ہے)، (ابو خالد الاحمسی لین الحدیث ہیں، اور اس کی روایت میں متفرد ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 376، وتراجع الألباني: 208)
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله تجتمع عليه الأمة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد مدلس ومروان بن معاوية الفزاري مدلس (طبقات المدلسين : 3/105) و عنعنا
والحديث الآتي(الأصل : 4280) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4280
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً، قَالَ: فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا، ثُمَّ قَالَ: كَلِمَةً خَفِيفَةً، قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ مَا قَالَ: قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4280]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: یہ دین بارہ خلیفوں تک معزز اور غالب رہے گا۔ چنانچہ لوگوں نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا اور آواز بلند کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے ایک بات کہی۔ تو میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الإمارة 1 (1821)، (تحفة الأشراف: 2203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/87، 88، 90، 93، 96، 101، 106) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1821)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4281
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ.
اس سند سے بھی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر قتل ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4281]
اسود بن سعید ہمدانی نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مذکورہ حدیث بیان کی، اس میں مزید ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس آئے تو قریشی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/92) (صحیح) (اس میں: «فلما جمع»  کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فلما رجع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الأسود بن سعيد الھمداني حسن الحديث علي الراجح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4282
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، قَالَ: زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا: حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَفْظُ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے۔ سفیان کی روایت میں ہے: دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4282]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا (کے فنا ہونے) میں ایک دن بھی باقی ہوا، زائدہ بن قدامہ نے اپنی روایت میں کہا، اللہ اس دن کو لمبا کر دے گا۔ پھر سب راوی متفق ہیں۔ حتیٰ کہ اللہ اس میں ایک آدمی کو اٹھائے گا جو مجھ سے ہو گا یا میرے اہل بیت میں سے ہو گا، اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام جیسا ہو گا۔ فطر بن خلیفہ کی روایت میں مزید ہے: وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی ہو گی۔ سفیان ثوری کی روایت میں کہا: یہ دنیا اس وقت تک فنا نہیں ہو گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی عرب پر حاکم نہ بن جائے۔ اس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر (عمر بن عبید) اور ابوبکر (ابوبکر بن عیاش) کے الفاظ سفیان کی روایت کے ہم معنی ہیں، لیکن ابوبکر نے «الْعَرَبَ» عرب کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 52 (2230)، (تحفة الأشراف: 9208)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/376، 377، 430، 448) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5452)
أخرجه الترمذي (2230 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4283
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4283]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس زمانے سے ایک دن بھی باقی ہوا تو اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت سے ایک آدمی کو اٹھائے گا جو اسے عدل سے بھر دے گا، جیسے کہ ظلم سے بھری ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10154)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/99) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4284
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ، يُثْنِي عَلَى عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلَاحًا.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4284]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: مہدی میری عترت یعنی فاطمہ کی اولاد سے ہو گا۔ جناب عبداللہ بن جعفر نے کہا: میں نے ابوملیح سے سنا وہ علی بن نفیل (جو سعید بن مسیب کے شاگرد ہیں) کی مدح کرتے تھے کہ وہ بھلے آدمی تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفتن 34 (4086)، (تحفة الأشراف: 18153) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5453)
أخرجه ابن ماجه (4086 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4285
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَقْنَى الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی میری اولاد میں سے کشادہ پیشانی، اونچی ناک والے ہوں گے، وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے، ان کی حکومت سات سال تک رہے گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4285]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی مجھ سے (میری نسل سے) ہو گا، اس کی پیشانی فراخ اور ناک بلند ہو گی، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم و زیادتی سے بھری ہو گی اور سات سال تک حکومت کرے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4378)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن 53 (2232)، سنن ابن ماجہ/الفتن 34 (4086) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قتادة عنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلى الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِينَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے، اسے یہ پسند نہ ہو گا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہو گا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے اور بعض نے سات کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4286]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ کی موت پر اختلاف ہو گا، پھر اہل مدینہ سے ایک آدمی بھاگتا ہوا مکہ پہنچے گا۔ اہل مکہ اس کے پاس آئیں گے اور اسے امامت کے لیے کھڑا کریں گے حالانکہ وہ اس عمل کو ناپسند کرتا ہو گا اور وہ اس کے ساتھ حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے۔ پھر شام والوں کی طرف سے اس کے خلاف ایک لشکر بھیجا جائے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان «بَيْدَاء» مقام پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ لوگ جب یہ حال دیکھیں گے تو شام کے ابدال (صالحین) اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی اور اس کے ساتھ بیعت کریں گی۔ پھر قریش میں سے ایک آدمی اٹھے گا جس کا ننھیال بنو کلب میں ہو گا، پھر وہ (قریشی کلبی) ان (مہدی کی بیعت کرنے والوں) کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجے گا تو وہ مہدی والے ان پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ بنو کلب کا یہی لشکر ہو گا (جو مغلوب ہو گا) اور خسارہ ہو گا اس کے لیے جو کلب کی غنیمت میں حاضر نہ ہو گا۔ مہدی مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نافذ کرے گا اور اسلام اپنی گردن زمین پر ٹکا دے گا۔ اور پھر وہ سات سال تک رہے گا۔ اس کے بعد اس کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان اس کا جنازہ پڑھیں گے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: بعض راویوں نے ہشام سے نو سال روایت کیے ہیں اور بعض نے سات سال۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18170، 18250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/259، 316) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4287
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ تِسْعَ سِنِينَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ، عَنِ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ.
اس سند سے قتادہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں نو سال ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاذ کے علاوہ نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4287]
قتادہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث روایت کی اور نو سال مدت بتائی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: معاذ کے علاوہ دیگر راوی ہشام سے نو سال روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18170) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4288
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مُعَاذٍ أَتَمُّ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتی ہیں، معاذ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4288]
عبداللہ بن حارث نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی ہے اور معاذ کی حدیث (4286) کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4286)، (تحفة الأشراف: 18170) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں