سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب فِي تَدَاعِي الأُمَمِ عَلَى الإِسْلاَمِ
باب: مسلمانوں پر دوسری قوموں کی مسلسل یلغار کا بیان۔
حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا“ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4297]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی، جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔“ تو کہنے والے نے کہا: ”کیا یہ ہماری ان دنوں قلت اور کمی کی وجہ سے ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے، لیکن جھاگ ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں «الْوَهْنُ» ”وہن“ ڈال دے گا۔“ پوچھنے والے نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! «الْوَهْنُ» ”وہن“ سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2091)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5369)
وله شاھد حسن عند أحمد (5/278)
مشكوة المصابيح (5369)
وله شاھد حسن عند أحمد (5/278)