سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ
باب: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4336
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ، فَيَقُولُ: يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ، ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ فَلَا يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِلَى قَوْلِهِ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 78 ـ 81 ثُمَّ قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا“ پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے قول «فاسقون» ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی“ (سورۃ المائدہ: ۷۸) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ”ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے“ یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4336]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا پہلا نقص اور عیب جو بنو اسرائیل میں داخل ہوا یہ تھا کہ ان میں سے کوئی دوسرے سے ملتا تو اسے کہتا تھا: ”ارے! اللہ سے ڈرو اور جو کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ، یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔“ پھر اگلے دن ملتا تو اس کے لیے اس کا ہم نوالہ، ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے میں اسے کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تھی۔ جب ان کا یہ حال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے پر دے مارا (ان کے اندر اختلاف، تنازع اور بغض و حسد پیدا ہو گیا۔ ان میں سے اتفاق و اتحاد اور الفت اٹھا لی گئی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ﴾ [سورة المائدة: 78] ”بنی اسرائیل کے کافروں پر سیدنا داود علیہ السلام اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے، روکتے نہ تھے۔ جو کچھ بھی وہ کرتے تھے یقیناً بہت برا تھا۔ ان میں سے اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں، بہت برا ہے وہ جو انہوں نے اپنے لیے آگے بھیج رکھا ہے کہ اللہ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ اگر ان کا اللہ پر، نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف نازل کیا گیا، ایمان ہوتا تو یہ ان کافروں سے دوستیاں نہ رکھتے لیکن اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔“ [سورة المائدة: 79-81] پھر فرمایا: ”خبردار! اللہ کی قسم! تمہیں بالضرور نیکی کا حکم کرنا ہو گا، برائی سے روکنا ہو گا، ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہو گا اور اسے حق پر لوٹانا اور حق کا پابند کرنا ہو گا۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 6 (3047، 3048)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4006)، (تحفة الأشراف: 9614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/391) (ضعیف)» (ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3047،3048) ابن ماجه (4006)
أبو عبيدة عن أبيه منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
ترمذي (3047،3048) ابن ماجه (4006)
أبو عبيدة عن أبيه منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ زَادَ أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ: قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ خَالِدٌ الطَّحَّانُ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: ”اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے ملا دے گا، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4337]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مانند روایت کیا۔ اور مزید کہا: ”ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل ایک دوسرے پر دے مارے گا (تمہارے اندر اختلاف و تفرقہ ڈال دے گا) اور پھر اسی طرح لعنت کرے گا جیسے کہ ان کو لعنت کی تھی۔“ (اپنی رحمت سے دور کرے گا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو محاربی نے بسند علاء بن مسیب، عبداللہ بن عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سالم افطس سے، انہوں نے ابوعبیدہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ اور خالد طحان نے بواسطہ علاء، عمرو بن مرہ سے اور اس نے ابوعبیدہ سے روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9614) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4336)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4336)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
حدیث نمبر: 4338
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ الْمَعْنَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهَا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 قَالَ: عَنْ خَالِدٍ، وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ، وَقَالَ عَمْرٌو، عَنْ هُشَيْمٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ، وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ شُعْبَةُ فِيهِ مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ.
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ”اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ (سورۃ المائدہ: ۱۰۵) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے“۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4338]
جناب قیس (قیس بن ابی حازم) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (اپنے خطبے میں) اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”اے لوگو! تم یہ آیت کریمہ پڑھتے تو ہو ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔“ مگر اس کے معنی و مفہوم غلط سمجھتے ہو۔“ خالد نے روایت کیا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بلاشبہ لوگ جب کسی کو ظلم کرتا دیکھیں اور پھر اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔“ اور عمرو (عمرو بن عون) نے ہشیم سے روایت کرتے ہوئے کہا: حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس قوم میں اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں اور وہ انہیں روکنے پر قادر ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ اس سبب سے ان سب کو اپنے عقاب کی لپیٹ میں لے لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو اسی طرح جیسے کہ خالد نے روایت کیا ہے، ابواسامہ اور ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جب کہ شعبہ نے یوں بیان کیا: ”جس کسی قوم میں نافرمانیاں ہوتی ہوں اور معاصی سے بچنے والوں کی تعداد زیادہ اور دوسروں کی کم ہو (اور پھر بھی وہ نہ روکیں) تو ان سب پر عقاب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 8 (2168)، تفسیر القرآن سورة المائدة 19 (3057)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4005)، (تحفة الأشراف: 6615)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 5، 7،9) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (5142، 5147)
أخرجه ابن ماجه (4005 وسنده صحيح) إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند أحمد (1/5)
مشكوة المصابيح (5142، 5147)
أخرجه ابن ماجه (4005 وسنده صحيح) إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند أحمد (1/5)
حدیث نمبر: 4339
حَدَّثَنَا مُسَّدَدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، أَظُنُّهُ عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ فَلَا يُغَيِّرُوا إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4339]
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی ایسی قوم میں ہو کہ ان میں اللہ کی نافرمانیاں کی جا رہی ہوں اور وہ لوگ ان کی اصلاح اور ان کے بدلنے پر قادر ہوں، اس کے باوجود وہ ان کی اصلاح نہ کریں اور انہیں نہ بدلیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے مرنے سے پہلے عذاب دے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3242)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4009) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4009)
عبيد اللّٰه بن جرير مجهول الحال (وإليه أشار في التقريب : 4280) ولم يوثقه غير ابن حبان وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4009)
عبيد اللّٰه بن جرير مجهول الحال (وإليه أشار في التقريب : 4280) ولم يوثقه غير ابن حبان وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، وَقَطَعَ هَنَّادٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ وَفَّاهُ ابْنُ الْعَلَاءِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4340]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دینے اور اس کی اصلاح کی طاقت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ ہاتھ سے اس کی اصلاح کرے۔“ ہناد نے یہ حدیث یہیں تک بیان کی، جبکہ ابن علاء نے بقیہ کو یوں پورا کیا: ”اگر یہ ہمت نہ ہو تو زبان سے روکے، اگر زبان سے روکنے کی ہمت نہ ہو تو پھر اپنے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کی سب سے کمزور کیفیت ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:(1140)، (تحفة الأشراف: 4085) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (49)
حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ سورة المائدة آية 105، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ يَعْنِي بِنَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ وَزَادَنِي غَيْرُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ".
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوثعلبہ! آپ آیت کریمہ «عليكم أنفسكم» کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا“ اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4341]
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے ابوثعلبہ! آپ اس آیت کریمہ ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] کے سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے اس کے متعلق فی الواقع صاحب علم و خبر سے پوچھا ہے۔ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بلکہ تمہیں چاہیے کہ نیکی کا حکم دیے جاؤ اور برائی سے روکتے رہو حتیٰ کہ جب دیکھو کہ حرص اور بخیلی کی اتباع ہونے لگی ہے، لوگ خواہشات نفسانی کے درپے ہو گئے ہیں اور دنیا ہی کو ترجیح دینے لگے ہیں (آخرت کو بھول گئے ہیں) اور ہر رائے والا اپنی رائے اور بات ہی کو ترجیح دیتا ہے (اس پر خوش اور اصرار کرتا ہے) تو پھر اپنے آپ کو لازم پکڑ لو اور عوام کی فکر چھوڑ دو (دوسروں کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں دے گی)۔ بلاشبہ تمہارے بعد صبر کے دن آنے والے ہیں، ان میں (دین و شریعت پر) صبر کرنا (اس پر ثابت قدم رہنا) ایسے ہوگا جیسے آگ کا انگارہ پکڑنا۔ ان لوگوں میں (دین کے تقاضوں پر) عمل کرنے والے کو اس جیسے پچاس عاملوں کا ثواب ملے گا۔““ (عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ عتبہ کے علاوہ) مجھے دوسرے نے بتایا کہ سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان لوگوں میں سے پچاس عاملوں کے برابر ثواب ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پچاس عاملوں کے برابر۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة المائدة 18 (3058)، سنن ابن ماجہ/الفتن 21 (4014)، (تحفة الأشراف: 11881) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن فقرة أيام الصبر ثابتة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (3058 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (4014 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (3058 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (4014 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4342
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ أَوْ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا، فَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالُوا: وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟“ یا آپ نے یوں فرمایا: ”عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا (یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4342]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانے میں کیا حال ہو گا؟“ یا فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگوں کو خوب چھان لیا جائے گا (اہل ایمان اور اچھے آدمی اٹھا لیے جائیں گے) اور چھان بورا باقی رہ جائے گا (بےدین اور رذیل لوگ باقی رہ جائیں گے) جن کے عہد و مواعید میں بے وفائی اور امانتوں میں خیانت ہو گی اور ان میں اس طرح سے اختلاف ہو جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری کے اندر ڈال کر دکھایا۔ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو ہم کیا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی ہو اس پر عمل پیرا ہونا اور جو برائی ہو اس سے دور رہنا اور خاص اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور اپنے عام لوگوں کو چھوڑ دینا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے وارد ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 10 (3957)، (تحفة الأشراف: 8893)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 88 (480)، مسند احمد (2/212) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3957 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3957 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4343
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ،حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ ذَكَرَ الْفِتْنَةَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں“ اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4343]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ لوگ اپنے عہد و مواعید میں بے وفائی کرنے لگے ہیں، امانتوں کا معاملہ انتہائی خفیف اور ضعیف ہو گیا ہے (لوگ خائن بن گئے ہیں) اور ان کی آپس کی حالت اس طرح ہو گئی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر دکھایا (اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں)۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا اور عرض کیا: ”اللہ مجھے آپ پر فدا ہونے والا بنائے! میں ان حالات میں کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اپنی زبان کا مالک بن جانا (خاموش رہنا) اور نیکی پر عمل کرنا اور برائی سے بچنا اور اپنی ذات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8892)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4344]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ انسان جابر حاکم یا ظالم امیر کے سامنے حق و انصاف کا کلمہ کہہ گزرے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 12 (2174)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4011)، (تحفة الأشراف: 4234) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3705)
وللحديث شواھد عند ابن ماجه (4012 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3705)
وللحديث شواھد عند ابن ماجه (4012 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا، وَقَالَ: مَرَّةً أَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا".
عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا“ (یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4345]
جناب عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین میں کوئی خطا اور نافرمانی کی جائے تو اس میں حاضر اور موجود شخص نے اس کو برا جانا اور اس کا انکار کیا، تو وہ ایسے ہوگا جیسے اس معصیت سے غائب اور دور رہا، لیکن جو غائب اور دور تھا مگر اس نافرمانی کو اس نے پسند کیا، تو وہ ایسے ہوگا جیسے کہ اس میں حاضر اور موجود تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَلَاحِمِ/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9894) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5141)
مشكوة المصابيح (5141)