🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. باب فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً
باب: جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4464
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ قَالَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو“۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4464]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی چوپائے سے بدفعلی کرے اس شخص کو قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس چوپائے کو بھی مار ڈالو۔“ (عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں) میں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے کہا کہ چوپائے کے قتل کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ جانا کہ اس کا گوشت کھایا جائے جبکہ اس کے ساتھ ایسا کام کیا گیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ روایت قوی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3576)
أخرجه الترمذي (1455 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4465
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَنَّ شَرِيكًا، وَأَبَا الْأَحْوَصِ، وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ، وقَالَ الْحَكَمُ: أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُبْلَغَ بِهِ الْحَدَّ، وقَالَ الْحَسَنُ: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4465]
ابورزین، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”جو شخص چوپائے سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عطاء رحمہ اللہ نے بھی ایسے ہی کہا ہے۔“ حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کو کوڑے لگائے جائیں، مگر اس تعداد میں کہ حد کو نہ پہنچیں۔“ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ایسا آدمی زانی کی مانند ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عاصم کی حدیث عمرو بن ابوعمرو کی روایت (4464) کو ضعیف کرتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 23 (1455)، انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۴۴۶۲)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3586)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں