سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب فِي التَّنَاجِي
باب: کانا پھوسی کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4851]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، اس سے وہ رنجیدہ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 15 (2184)، سنن الترمذی/الأدب 59 (2825)، سنن ابن ماجہ/الأدب 50 (3775)، (تحفة الأشراف: 9253)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 45 (6288)، 47 (6290)، موطا امام مالک/الکلام 6 (14)، مسند احمد (1/425، 462، 464)، دی/ الاستئذان 28 (2699) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (8184)
حدیث نمبر: 4852
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَأَرْبَعَةٌ، قَالَ: لَا يَضُرُّكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں: میں نے ابن عمر سے کہا: اگر چار آدمی ہوں تو؟ وہ بولے (تو کوئی حرج نہیں) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4852]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا۔ ابوصالح کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اگر چار افراد ہوں تو؟“ کہا کہ ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6714)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/18، 43، 141) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1169)
الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1169)