سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ
باب: نام بدل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4948
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ" , قَالَ أبو داود: ابْنُ أَبِى زَكَرِيَّا لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ.
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپ دادا کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4948]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے۔ چنانچہ اپنے نام اچھے اچھے رکھا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”ابن ابو زکریا نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/194)، سنن الدارمی/الاستئذان 59 (2736) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ اگر کسی کا نام اچھا نہ ہو تو وہ بدل کر اپنا اچھا نام رکھ لے، اور سب سے بہتر نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن أبي زكريا : لم يدرك أبا الدرداء،كما قال أبو داود رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن أبي زكريا : لم يدرك أبا الدرداء،كما قال أبو داود رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
حدیث نمبر: 4949
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4949]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب ناموں میں سے عبداللہ اور عبدالرحمٰن اللہ عزوجل کو بہت ہی پیارے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأداب 1 (2132)، (تحفة الأشراف: 7920)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 64 (2836)، سنن الدارمی/الاستئذان 60 (2737) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2132)
حدیث نمبر: 4950
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا: حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا: حَرْبٌ، وَمُرَّةُ".
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام ”عبداللہ“ اور ”عبدالرحمٰن“ ہیں، اور سب سے سچے نام ”حارث“ و ”ہمام“ ہیں ۱؎، اور سب سے نا پسندیدہ و قبیح نام ”حرب“ و ”مرہ“ ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4950]
سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کے نام رکھا کرو اور اللہ کو سب ناموں میں زیادہ محبوب «عَبْدُ اللهِ» ”عبداللہ“ اور «عَبْدُ الرَّحْمَنِ» ”عبدالرحمٰن“ ہیں۔ سب سے بڑھ کر واقعیت سے قریب یہ نام ہیں، «حَارِثٌ» ”حارث“ (کھیتی باڑی کرنے والا) اور «هَمَّامٌ» ”ہمام“ (رنج و فکر میں پڑا ہوا) اور یہ نام سب سے برے ہیں، «حَرْبٌ» ”حرب“ (لڑاکا) اور «مُرَّةُ» ”مرہ“ (کڑوا)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الخیل 2 (3595)، (تحفة الأشراف: 15521)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345) (صحیح)(اس میں تسموا باسماء الأنبیاء کاٹکڑاصحیح نہیں ہے) (الصحیحة 1040،904، والارواء 1178 وتراجع الالبانی 46)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چنانچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد وارادہ سے خالی ہو، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔
۲؎: ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
۲؎: ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله تسموا بأسماء الأنبياء
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3595)
ولبعض الحديث شواهد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
إسناده ضعيف
نسائي (3595)
ولبعض الحديث شواهد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
حدیث نمبر: 4951
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ , قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے“ اور آپ نے اس لڑکے کا نام ”عبداللہ“ رکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4951]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب (میرے سوتیلے بھائی) عبداللہ بن ابوطلحہ کی ولادت ہوئی تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عباء پہنے اپنے اونٹ کو گندھک لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے منہ میں ڈال کر چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر انہیں اس کے منہ میں ڈال دیا تو وہ اپنی زبان چلانے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاریوں کی کھجور سے محبت! (یعنی دیکھو نومولود بھی کس چاہت سے کھا رہا ہے)۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الآداب 5 (2144)، انظر حدیث رقم: (2563)، (تحفة الأشراف: 325)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/175، 212، 287، 288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2144)