🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

---. باب
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4981
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،" أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ:" قُمْ أَوْ قَالَ: اذْهَبْ , فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے (خطبہ میں) کہا: «من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما» جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے ... (ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ) آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ یا یوں فرمایا: چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4981]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطبہ دیا تو اس نے کہا «مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا» جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، بلاشبہ وہ ہدایت یافتہ ہوا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چل کھڑا ہو۔ یا فرمایا: چلا جا، تو بہت برا خطیب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1099)، (تحفة الأشراف: 9850) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطیب کو اس لئے برا کہا کہ اس نے «من يعصهما»  کہہ کر اللہ اور رسول دونوں کو ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا تھا، خطبہ میں باتوں کو تفصیل سے کہنے کا موقع ہوتا ہے، اور سامعین میں ہر سطح کے لوگ ہوتے ہیں، مقام کا تقاضا تفصیل کا تھا یعنی: «من یعص اللہ ویعص رسولہ»  کہنے کا، تاکہ کسی طرح کا التباس نہ رہ جاتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4982
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ:" كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَثَرَتْ دَابَّةٌ، فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولُ: بِقُوَّتِي , وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب".
ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4982]
جناب ابوملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو ٹھوکر سی لگی تو میری زبان سے نکلا: ہلاک ہو شیطان۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مت کہو، تم جب یہ کہتے ہو تو وہ پھول جاتا ہے یہاں تک کہ ایک گھر کے برابر ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری قوت سے ایسا ہوا لیکن کہو «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے تم جب ایسے کہتے ہو تو وہ سکڑ جاتا ہے، حتیٰ کہ مکھی کی مانند ہو جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15600)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/59، 71) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4983
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح، وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتَ، وَقَالَ مُوسَى: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ" , قال أبو داود: قَالَ مَالِكٌ: إِذَا قَالَ ذَلِكَ تَحَزُّنًا لِمَا يَرَى فِي النَّاسِ: يَعْنِي فِي أَمْرِ دِينِهِمْ، فَلَا أَرَى بِهِ بَأْسًا، وَإِذَا قَالَ ذَلِكَ عُجْبًا بِنَفْسِهِ وَتَصَاغُرًا لِلنَّاسِ، فَهُوَ الْمَكْرُوهُ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو! (اور موسیٰ کی روایت میں یوں ہے، کہ جب آدمی کہے) کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، اور جب یہ بات وہ خود پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے، جس سے روکا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4983]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو، اور بالفاظِ موسیٰ (موسیٰ بن اسماعیل) جب کہے: بندہ کہ «هَلَكَ النَّاسُ» لوگ تباہ ہو گئے، تو کہنے والا ہی سب سے زیادہ تباہ حال ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی لوگوں کو دینی حالت میں کمی اور خرابی کی وجہ سے ایسے کہے تو میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، لیکن جب کوئی اپنے آپ کو بڑا اور لوگوں کو حقیر سمجھتے ہوئے ایسے کہے تو ناجائز ہے اور اسی کی ممانعت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/البر والصلة 41 (2623)، (تحفة الأشراف: 12623، 12741)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/27، 342) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کی عیب جوئی اور برائیاں برابر بیان کرتا رہے، اور اپنی زبان سے لوگوں کے فساد میں مبتلا ہونے اور ان کی ہلاکت و تباہی کا ذکر کرتا رہے گا تو ایسا شخص بسبب اس گناہ کے جو اسے اپنے اس کرتوت کی وجہ سے لاحق ہو رہا ہے سب سے زیادہ ہلاکت و بربادی کا مستحق ہے، اور بسا اوقات وہ خود پسندی کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2623)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں