🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

140. باب الرَّجُلِ يَسْتَأْذِنُ بِالدَّقِّ
باب: دستک دے کر اجازت لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5187
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ أَبِيهِ، فَدَقَقْتُ الْباب، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَنَا , قال: أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں آپ نے فرمایا: میں، میں (کیا؟) گویا کہ آپ نے (اس طرح غیر واضح جواب دینے) کو برا جانا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5187]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے جواب میں کہا: میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہوں، میں ہوں۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز کو ناپسند فرمایا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الاستئذان 17 (6250)، صحیح مسلم/الآداب 8 (2155)، سنن الترمذی/الاستئذان 18 (2711)، سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3709)، (تحفة الأشراف: 3042)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/298، 320، 363)، سنن الدارمی/الاستئذان 2 (2672) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6250) صحيح مسلم (2155)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں