🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

139. باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5180
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ أَبُو مُوسَى فَزِعًا، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَفْزَعَكَ؟ قَالَ:" أَمَرَنِي عُمَرُ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟ قُلْتُ: قَدْ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَقَدْ قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ , قال: لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِالْبَيِّنَةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ مَعَهُ، فَشَهِدَ لَهُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دوبارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا: (اس کی گواہی کے لیے تو) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جا سکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5180]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گھبرائے گھبرائے سے آئے۔ ہم نے ان سے پوچھا: آپ گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلوایا تھا کہ ان کے پاس جاؤں۔ میں ان کے ہاں گیا اور تین بار اجازت طلب کی مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی، تو میں واپس ہونے لگا۔ تو انہوں نے کہا: کیا وجہ تھی کہ تم میرے پاس نہیں آئے؟ میں نے ان سے کہا کہ میں آیا تھا اور تین بار اجازت مانگی مگر نہیں دی گئی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے جب کوئی تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو چاہیے کہ وہ لوٹ آئے۔تو انہوں نے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا ہے: تمہیں اپنے اس بیان پر گواہ پیش کرنا پڑے گا۔ تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ قوم کا کوئی چھوٹا بچہ بھی جا سکتا ہے۔ (وہ اس حدیث کے صحیح ہونے کی گواہی دے سکتا ہے) چنانچہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ گئے اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں گواہی دی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 9 (2062)، الاستئذان 13 (6245)، صحیح مسلم/الآداب 7 (2153)، (تحفة الأشراف: 3970)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 3 (2690)، سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3706)، موطا امام مالک/الاستئذان 1 (3)، مسند احمد (4/398)، دي /الاستئذان 1 (2671) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6245) صحيح مسلم (2153)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5181
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى،" أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا، فَقَالَ: يَسْتَأْذِنُ أَبُو مُوسَى، يَسْتَأْذِنُ الْأَشْعَرِيُّ، يَسْتَأْذِنُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ عُمَرُ: مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَسْتَأْذِنُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ، وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ , قال: ائْتِنِي بِبَيِّنَةٍ عَلَى هَذَا، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: هَذَا أُبَيٌّ، فَقَالَ أُبَيٌّ: يَا عُمَرُ، لَا تَكُنْ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَكُونُ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی: ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ۱؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لیے بھیجا (جب وہ آئے) تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے (تو اندر چلا جائے) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر) واپس آئے اور کہا یہ ابی (گواہ) ہیں ۲؎، ابی نے کہا: اے عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5181]
جناب ابوبردہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور تین بار اجازت مانگی اور کہا: ابوموسیٰ اجازت چاہتا ہے۔ اشعری اجازت چاہتا ہے۔ عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری) اجازت چاہتا ہے۔ مگر اجازت نہ ملی تو یہ واپس ہو لیے۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پیچھے سے بلوایا کہ واپس کیوں جا رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اجازت تین بار مانگو، اگر مل جائے تو بہتر ورنہ واپس ہو جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے بیان پر مجھے گواہ پیش کرو (کہ فی الواقع یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے) تو وہ گئے اور واپس آئے اور کہا: یہ ابی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں۔ تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے عذاب نہ بنیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے عذاب نہیں ہوں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الآداب 7 (2154)، (تحفة الأشراف: 9100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/398) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی طلحہ سے غلطی ہو جایا کرتی تھی، ویسے پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: ابوموسیٰ اشعری کا نام عبداللہ بن قیس ہے، آپ نے نام سے، کنیت سے، قبیلہ کی طرف نسبت سے، تینوں طریقوں سے اجازت مانگی۔
۲؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ہے کہ شاہد ابوسعید تھے اور اس میں ہے ابی بن کعب تھے دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ ابوسعید خدری نے پہلے گواہی دی اس کے بعد ابی بن کعب آئے اور انہوں نے بھی گواہی دی۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2154)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: فَانْطَلَقَ بأَبِي سَعِيدٍ فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ: أَخَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ، وَلَا تَسْتَأْذِنْ.
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، (اب تمہارے لیے اجازت ہے) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5182]
جناب عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی اور مذکورہ قصہ بیان کیا، اور اس میں ہے کہ وہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر گئے تو انہوں نے ان کے حق میں گواہی دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مجھ سے مخفی رہا ہے؟ مجھے بازار کے تجارتی مشاغل نے مشغول رکھا۔ اور تم جب چاہو سلام کہہ کے آ جایا کرو اور اجازت نہ مانگا کرو۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (5180)، (تحفة الأشراف: 4146) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن آخری ٹکڑا '' جتنی بار چاہو... '' صحیح نہیں ہے، اور یہ صحیحین میں ہے بھی نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2062) صحيح مسلم (2153)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5183
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي مُوسَى: إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ.
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر (جھوٹی حدیث بیان کرنے کا) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5183]
جناب ابوبردہ نے اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ قصہ روایت کیا۔ اس میں ہے کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا: بلاشبہ میں تم پر کسی طرح کی تہمت نہیں لگا رہا (کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کرنے کا معاملہ بڑا سخت (اور اہم) ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (5181)، (تحفة الأشراف: 9084) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی: حدیث کو روایت کرنے میں بڑی احتیاط اور ہوشیاری لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ بھول چوک ہو جائے یا غلط فہمی سے الفاظ بدلنے میں مطلب کچھ کا کچھ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين (5181، 5182) والآتي (5184)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5184
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مَنْ عُلَمَائِهِمْ فِي هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي مُوسَى: أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ، وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5184]
جناب ربیعہ بن ابو عبدالرحمٰن اور کئی ایک محدثین سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ پر کوئی تہمت نہیں لگا رہا، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ویسے ہی احادیث کی نسبت نہ کرنے لگیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (5180)، (تحفة الأشراف: 3970) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وھو في الموطأ (2/964) مطولًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5185
حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَعْنَى، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، قَالَ قَيْسٌ: فَقُلْتُ: أَلَا تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , فَقَالَ ذَرْهُ: يُكْثِرُ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ: عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ سَعْدُ رَدًّا خَفِيًّا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ , قال: فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قال: ثُمَّ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ قَيْسٌ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْكَبْ فَأَبَيْتُ , ثُمَّ قَالَ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ" , قال هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَابْنُ سَمَاعَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ.
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے (باہر رک کر) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے (سعد سے) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو (جلدی نہ کرو) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (اور جواب نہ سن کر) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے (پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5185]
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے (باہر رک کر) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے (سعد سے) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا: چھوڑو (جلدی نہ کرو) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (اور جواب نہ سن کر) لوٹ پڑے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے (پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ» اے اللہ! آلِ سعد بن عبادہ پر اپنی خاص برکتیں اور رحمتیں نازل فرما۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھانا کھایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو سعد رضی اللہ عنہ نے گدھا قریب کر دیا جبکہ اس کی پیٹھ پر کپڑا ڈال دیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے قیس! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ قیس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: سوار ہو جاؤ۔ مگر میں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ میں واپس آ گیا۔ ہشام، ابومردان نے یہ روایت محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ سے بصیغہ «عن» روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعہ نے یہ روایت اوزاعی سے مرسل روایت کی ہے اور ان دونوں نے قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11096)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 59 (466)، اللباس22 (3604)، مسند احمد (3/421، 6/7) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
في سماع محمد بن عبد الرحمٰن بن أسعد بن زرارة من قيس بن سعد بن عبادة نظر
وللحديث طريق آخر ضعيف عند النسائي في عمل اليوم والليلة (324)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5186
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ , فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ، وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5186]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر جاتے تو اس کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوا کرتے تھے، بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو کر کھڑے ہوتے اور فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» السلام علیکم، السلام علیکماور ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5201)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4673)
أخرجه أحمد (4/189) والبخاري في الأدب المفرد (1078) بقية بن الوليد صرح بالسماع المسلسل وتابعه إسماعيل بن عياش ومحمد بن عبد الرحمن ھو الحميري الحمصي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں