سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. باب كم مرة يسلم الرجل في الاستئذان
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
حدیث نمبر: 5182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: فَانْطَلَقَ بأَبِي سَعِيدٍ فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ: أَخَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ، وَلَا تَسْتَأْذِنْ.
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، (اب تمہارے لیے اجازت ہے) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5182]
جناب عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی اور مذکورہ قصہ بیان کیا، اور اس میں ہے کہ وہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر گئے تو انہوں نے ان کے حق میں گواہی دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مجھ سے مخفی رہا ہے؟ مجھے بازار کے تجارتی مشاغل نے مشغول رکھا۔ اور تم جب چاہو سلام کہہ کے آ جایا کرو اور اجازت نہ مانگا کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (5180)، (تحفة الأشراف: 4146) (صحیح)» (لیکن آخری ٹکڑا '' جتنی بار چاہو... '' صحیح نہیں ہے، اور یہ صحیحین میں ہے بھی نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2062) صحيح مسلم (2153)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 5182 in Urdu
عبد الله بن قيس الأشعري ← أبو سعيد الخدري