سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. بَابٌ في مَسْحِ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلِهِ
باب: موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 550]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”موزے کے اوپر بھی مسح کیا اور نیچے بھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 63 (165)، سنن الترمذی/الطہارة 72 (97)، (تحفة الأشراف: 11537)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 8 (41) مسند احمد (4/251) سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (ضعیف)» (ملاحظہ ہو: المشکاة: 521) (شاید سند میں انقطاع ہے کیونکہ ثور کا سماع حیوة سے ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (165) ترمذي (97)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (165) ترمذي (97)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
حدیث نمبر: 551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَتَوَضَّأُ وَيَغْسِلُ خُفَّيْهِ، فَقَالَ بِيَدِهِ، كَأَنَّهُ دَفَعَهُ:" إِنَّمَا أُمِرْتَ بِالْمَسْحِ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا:" مِنْ أَطْرَافِ الْأَصَابِعِ إِلَى أَصْلِ السَّاقِ، وَخَطَّطَ بِالْأَصَابِعِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا، اور اپنے دونوں موزوں کو دھو رہا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے روک رہے ہیں، اور فرمایا: ”تمہیں تو (موزوں پر) صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کیا یعنی انگلیوں کے کناروں سے خط کھینچتے ہوئے پنڈلیوں کی جڑ تک لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 551]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا اور (پاؤں دھونے کے بجائے پاؤں میں پہنے ہوئے) موزے دھو رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسے متوجہ کرنے کے لیے) ہاتھ سے اسے (ہلکا سا) دھکیلا اور فرمایا: ”مجھے مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ اور (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو (پاؤں کی) انگلیوں سے شروع کر کے پنڈلی کے شروع تک لے گئے اور انگلیوں سے (گویا خط) کھینچے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3084، ومصباح الزجاجة: 228) (ضعیف جدا)» (سند میں بقیہ مدلس اور جریر بن یزید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 19)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بقية صدوق كثير التدليس عن الضعفاء (تقريب: 734) وجرير بن يزيد ضعيف أو مجهول،ا نظر التقريب (918)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
إسناده ضعيف
بقية صدوق كثير التدليس عن الضعفاء (تقريب: 734) وجرير بن يزيد ضعيف أو مجهول،ا نظر التقريب (918)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398