🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ:" بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، (کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 543]
جناب ہمام بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، انہیں کہا گیا: آپ بھی یہ کام کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے کیا رکاوٹ ہے؟ (میں کیوں نہ کروں؟) جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں کو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث بہت پسند آئی کیونکہ وہ سورۃ المائدہ کے نازل ہونے کے بعد اسلام لائے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (272)، سنن الترمذی/الطہارة 70 (118)، سنن النسائی/الطہارة 96 (118)، القبلة 23 (775)، (تحفة الأشراف: 3235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 363، 364) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں لوگوں سے مراد اصحاب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، جس کی صراحت مسلم کی روایت میں ہے، مطلب یہ کہ سورہ مائدہ میں وضو کا حکم ہے، اگر جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام نزول آیت سے پہلے ہوتا تو احتمال تھا کہ یہ حکم منسوخ ہو، اور جب متأخر ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت آیت کی مخصص ہے، اور حکم یہ ہے کہ اگر پیروں میں وضو کے بعد «خف» (موزے) پہنے ہوں تو مسح کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 544]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (305، 306)، (تحفة الأشراف: 3335) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 545]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے ساتھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 48 (182)، 49 (203)، المغازي 81 (4421)، اللباس 11 (5799) صحیح مسلم/الطہارة 22 (274)، سنن ابی داود/الطہارة 59 (149)، سنن النسائی/الطہا رة 63 (79)، 66 (82)، 79 (96)، 80 (97)، (تحفة الأشراف: 11514)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 75 (100)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (41)، مسند احمد (4/255)، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ: أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ :" كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک (سعد بن مالک ابن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 546]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا تو فرمایا: کیا آپ لوگ اس طرح کرتے ہیں (مسح کر لیتے ہیں، پاؤں نہیں دھوتے؟) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس دونوں کی باہم ملاقات ہوگئی تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے بھتیجے (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتا دیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور موزوں پر مسح کر لیا کرتے تھے، اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگرچہ کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آیا ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں (تب بھی مسح کر لیتے تھے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10570، ومصباح الزجاجة: 225)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 49 (202)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (42)، مسند احمد (1/35) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں سعید بن أبی عروبہ مدلس صاحب اختلاط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن بقول بوصیری محمد بن سواء نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے، نیز دوسرے طرق ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَأَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا، اور ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 547]
حضرت سہل ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور ہمیں بھی موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4800، ومصباح الزجاجة: 227) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں عبد المہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف۔عبدالمھيمن ضعفه الجمھور ‘‘ وھو ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا: کچھ پانی ہے؟، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 548]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ پانی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ پھر لشکر سے آ ملے اور انہیں نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 1093، ومصباح الزجاجة: 227) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں، اور عطاء خراسانی اور انس رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن المثني: مستور (تقريب: 4962)
وعطاء الخراساني لم يسمع من أنس رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ،" أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے، آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 549]
حضرت ابن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے تحفہ کے طور پر ارسال کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 59 (155)، سنن الترمذی/الأدب 55 (2820)، (تحفة الأشراف: 1956)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/352)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3620) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (155) ترمذي (2820) وانظر الآتي (3620)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں