سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کا بیان۔
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا: ”کچھ پانی ہے“؟، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 548]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ پانی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ پھر لشکر سے آ ملے اور انہیں نماز پڑھائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 1093، ومصباح الزجاجة: 227) (ضعیف)» (عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں، اور عطاء خراسانی اور انس رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن المثني: مستور (تقريب: 4962)
وعطاء الخراساني لم يسمع من أنس رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
إسناده ضعيف
عمر بن المثني: مستور (تقريب: 4962)
وعطاء الخراساني لم يسمع من أنس رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
548
| توضأ ومسح على خفيه |
Sunan Ibn Majah Hadith 548 in Urdu
عطاء بن أبي مسلم الخراساني ← أنس بن مالك الأنصاري