سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
114. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ
باب: پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِهِ".
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کا ارادہ کرے، اور نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو لے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 616]
حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو اسے چاہیے کہ پہلے حاجت سے فراغت حاصل کرے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 43 (88)، سنن الترمذی/الطہا رة 108 (142)، سنن النسائی/ الإ مامة 51 (853)، (تحفة الأشراف: 5141)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 17 (49)، مسند احمد (4/35)، سنن الدارمی/الصلاة 137 (1467) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْر ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی نماز پڑھے اور وہ پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے ہو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 617]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی پیشاب روکے ہوئے نماز پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4932، ومصباح الزجاجة: 237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/250، 260، 261) (صحیح)» (سند میں بشر بن آدم، سفر بن نسیر ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، دیکھئے اوپر کی حدیث (616) نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 11، 12)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی پیشاب یا پاخانہ کی اذیت و تکلیف کی حالت میں نماز کے لیے نہ کھڑا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 618]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اس حال میں نماز کے لیے کھڑا نہ ہو کہ اسے پیشاب یا پاخانہ کی حاجت ہو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14850، ومصباح الزجاجة: 238)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 43 (89)، مسند احمد (2/442، 471) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 619
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَقُومُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے نماز کے لیے نہ کھڑا ہو جب تک کہ وہ قضائے حاجت کر کے ہلکا نہ ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 619]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان پیشاب یا پاخانہ کی حاجت ہوتے ہوئے (نماز کے لیے) کھڑا نہ ہو حتی کہ ہلکا پھلکا ہو جائے (حاجت سے فارغ ہو جائے)۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 43 (90)، سنن الترمذی/الصلا ة 148 (357)، (تحفة الأشراف: 2089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280) (صحیح)» (اس سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز اور بھی کلام ہے لیکن دوسرے طرق سے یہ ثابت ہے)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 923)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن