🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: فَضْلِ النِّسَاءِ
باب: بہترین عورت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَلَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا متاع (سامان) ہے، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1855]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا (عارضی) فائدے کی چیز ہے اور دنیا کے سازوسامان میں نیک عورت سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الرضاع 17 (1467)، سنن النسائی/النکاح 15 (3234)، (تحفة الأشراف: 8849)، مسند احمد (2/168) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإفريقي ضعيف
و روي مسلم (1467): ((الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة)) و ھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ، قَالُوا: فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟، قَالَ عُمَرُ: فَأَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟، فَقَالَ:" لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1856]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سونے چاندی کے بارے میں حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (آپس میں) کہا: ہم کون سا مال حاصل کریں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں یہ (مسئلہ) معلوم کر کے بتاتا ہوں۔ انہوں نے اپنے اونٹ کو تیز چلایا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے۔ (ثوبان فرماتے ہیں:) میں بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کون سا مال حاصل (کرنے کی کوشش) کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں چاہیے کہ شکر کرنے والا دل حاصل کرو اور ذکر کرنے والی زبان، اور مومن بیوی جو آخرت کے معاملات میں مرد کی مدد کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2084، ومصباح الزجاجة: 658)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 10 (3094)، مسند احمد (5/278، 282) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کی آدمی اس کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے، اور گھر کے تمام کام عورت کر لیتی ہے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے، اگر عورت نہ ہو اور یہ کام خود کرے تو عبادت کی فرصت مشکل سے ملے گی، بعض عورتیں خود نیک اور دیندار ہوتی ہیں، ان کی صحبت کے اثر سے مرد بھی زاہد اور عابد ہو جاتا ہے، بعض عورتیں اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3094)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس (کے بھروسے) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1857]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: مومن کو اللہ کے تقوے کے بعد نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں مل سکتی۔ (ایسی بیوی کہ) جب وہ اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی تعمیل کرے، جب اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے تو اسے خوش کر دے، اگر اسے کوئی قسم دے تو وہ قسم پوری کر دے، اگر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو (سفر وغیرہ میں چلا جائے) تو اپنی ذات کے بارے میں اور اس کے مال کے بارے میں اس سے مخلص رہے (خیانت نہ کرے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4919، ومصباح الزجاجة: 659) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن يزيد وعثمان بن أبي العاتكة: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں