🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: تَزْوِيجِ ذَوَاتِ الدِّينِ
باب: نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ان کے مال و دولت کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، اور ان کی دین داری کی وجہ سے، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1858]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: (کسی سے) اس کے مال کی وجہ سے، (کسی سے) اس کے حسب و نسب کی وجہ سے، (کسی سے) اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، (کسی سے) اس کی دین داری (اور نیکی) کی وجہ سے۔ تو دین دار عورت (کے حصول میں) کامیاب ہو جا، «تَرِبَتْ يَدَاكَ» تیرا بھلا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 15 (5090)، صحیح مسلم/الرضاع 15 (1466)، سنن ابی داود/النکاح 2 (2047)، سنن النسائی/النکاح 13 (3232)، (تحفة الأشراف: 13305)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/428)، سنن الدارمی/النکاح 4 (2216) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبيُّ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ لِحُسْنِهِنَّ، فَعَسَى حُسْنُهُنَّ أَنْ يُرْدِيَهُنَّ، وَلَا تَزَوَّجُوهُنَّ لِأَمْوَالِهِنَّ، فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْغِيَهُنَّ، وَلَكِنْ تَزَوَّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ، وَلَأَمَةٌ خَرْمَاءُ سَوْدَاءُ ذَاتُ دِينٍ أَفْضَلُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنا دیں، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1859]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ممکن ہے ان کا حسن انہیں (تکبر میں مبتلا کر کے) تباہ کر دے، ان سے ان کے مال کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ممکن ہے ان کا مال انہیں سرکش بنا (کر گناہوں میں مبتلا کر) دے، البتہ ان کے دین کو پیش نظر رکھتے ہوئے نکاح کیا کرو۔ ایک سیاہ فام، ناک کٹی، دین دار لونڈی (خوبصورت، بے دین آزاد عورت سے) افضل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8868، ومصباح الزجاجة: 660) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1060)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الإفريقي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں