سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: الإِقَامَةِ عَلَى الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ
باب: کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔
حدیث نمبر: 1916
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا، وَلِلْبِكْرِ سَبْعًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کر دیں)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1916]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثیبہ کے لیے تین دن رات کی مدت ہے اور باکرہ کے لیے سات دن رات۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 100 (5214)، صحیح مسلم/الرضاع 12 (1461)، سنن ابی داود/النکاح 35 (2124)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1139)، (تحفة الأشراف: 944)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 5 (15)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2255) (حسن)» (اصل حدیث دوسرے طرق سے ثابت ہے کمافی التخریج)
وضاحت: ۱؎: باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کر لے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہو جانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ:" لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: ”تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1917]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو تین دن ان کے ہاں ٹھہرے، پھر فرمایا: ”تیرے خاوند ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نظر میں تیرا مقام کم نہیں۔ اگر تو چاہے تو سات دن تیرے پاس ٹھہروں۔ اور اگر میں سات دن تیرے پاس ٹھہرا تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات سات دن ٹھہروں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 12 (1460)، سنن ابی داود/النکاح 35 (2122)، (تحفة الأشراف: 18229)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 5 (14)، مسند احمد (6/292، 295، 307)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم