🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : الإقامة على البكر والثيب
باب: کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ:" لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 12 (1460)، سنن ابی داود/النکاح 35 (2122)، (تحفة الأشراف: 18229)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 5 (14)، مسند احمد (6/292، 295، 307)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2256) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newأبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن أبي بكر المخزومي
Newعبد الملك بن أبي بكر المخزومي ← أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي بكر الأنصاري، أبو عبد الملك
Newمحمد بن أبي بكر الأنصاري ← عبد الملك بن أبي بكر المخزومي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن أبي بكر الأنصاري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3625
إن شئت أن أسبع لك وأسبع لنسائي وإن سبعت لك سبعت لنسائي
صحيح مسلم
3621
ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي
سنن أبي داود
2122
ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي
سنن ابن ماجه
1917
ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1917 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1917
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابو امیہ ہے۔
ان کا نکاح حضرت ابو سلمہ سے ہوا تھا۔
حضرت ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔
جب 4 ہجری میں ان کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔

(2)
اگر دلہن ثیب (بیوہ یا مطلقہ)
ہو تب بھی اس کے پاس سات دن رہنا درست ہے لیکن اس صورت میں دوسری بیوی یا بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہ کر باری شروع کرنا ہوگی۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشکش کے جواب میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دن کی مدت کا انتخاب فرمایا تھا۔ (صحیح مسلم، الرضاع، باب قدر ما تستحقه البکر و الثیب من اقامة الزوج عندھا عقب الزفاف، حدیث: 1460)

(4)
اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ اس صورت میں باری جلد ملنے کی امید تھی۔
شرعی حدود میں رہتے ہوئے بیویوں کے جذبات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1917]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2122
کنواری عورت سے نکاح کرنے پر کتنے دن اس کے ساتھ رہے؟
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2122]
فوائد ومسائل:
مسئلے کی توضیح اگلی حدیث (2124) میں آرہی ہے اس حدیث میں یہ ہے کہ اگر کسی نے بیوہ کے ہاں سات دن اقامت کی تو تین دن والی خصوصیت ختم ہو جائے گی اور باقیوں کے ہاں بھی سا ت دن ہی رکنا ہو گا۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2122]