سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : الإقامة على البكر والثيب
باب: کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ:" لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: ”تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 12 (1460)، سنن ابی داود/النکاح 35 (2122)، (تحفة الأشراف: 18229)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 5 (14)، مسند احمد (6/292، 295، 307)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3625
| إن شئت أن أسبع لك وأسبع لنسائي وإن سبعت لك سبعت لنسائي |
صحيح مسلم |
3621
| ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي |
سنن أبي داود |
2122
| ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي |
سنن ابن ماجه |
1917
| ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1917 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1917
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابو امیہ ہے۔
ان کا نکاح حضرت ابو سلمہ سے ہوا تھا۔
حضرت ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔
جب 4 ہجری میں ان کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔
(2)
اگر دلہن ثیب (بیوہ یا مطلقہ)
ہو تب بھی اس کے پاس سات دن رہنا درست ہے لیکن اس صورت میں دوسری بیوی یا بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہ کر باری شروع کرنا ہوگی۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشکش کے جواب میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دن کی مدت کا انتخاب فرمایا تھا۔ (صحیح مسلم، الرضاع، باب قدر ما تستحقه البکر و الثیب من اقامة الزوج عندھا عقب الزفاف، حدیث: 1460)
(4)
اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ اس صورت میں باری جلد ملنے کی امید تھی۔
شرعی حدود میں رہتے ہوئے بیویوں کے جذبات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابو امیہ ہے۔
ان کا نکاح حضرت ابو سلمہ سے ہوا تھا۔
حضرت ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔
جب 4 ہجری میں ان کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔
(2)
اگر دلہن ثیب (بیوہ یا مطلقہ)
ہو تب بھی اس کے پاس سات دن رہنا درست ہے لیکن اس صورت میں دوسری بیوی یا بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہ کر باری شروع کرنا ہوگی۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشکش کے جواب میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دن کی مدت کا انتخاب فرمایا تھا۔ (صحیح مسلم، الرضاع، باب قدر ما تستحقه البکر و الثیب من اقامة الزوج عندھا عقب الزفاف، حدیث: 1460)
(4)
اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ اس صورت میں باری جلد ملنے کی امید تھی۔
شرعی حدود میں رہتے ہوئے بیویوں کے جذبات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1917]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2122
کنواری عورت سے نکاح کرنے پر کتنے دن اس کے ساتھ رہے؟
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2122]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2122]
فوائد ومسائل:
مسئلے کی توضیح اگلی حدیث (2124) میں آرہی ہے اس حدیث میں یہ ہے کہ اگر کسی نے بیوہ کے ہاں سات دن اقامت کی تو تین دن والی خصوصیت ختم ہو جائے گی اور باقیوں کے ہاں بھی سا ت دن ہی رکنا ہو گا۔
مسئلے کی توضیح اگلی حدیث (2124) میں آرہی ہے اس حدیث میں یہ ہے کہ اگر کسی نے بیوہ کے ہاں سات دن اقامت کی تو تین دن والی خصوصیت ختم ہو جائے گی اور باقیوں کے ہاں بھی سا ت دن ہی رکنا ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2122]
أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أم سلمة زوج النبي