سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: الرَّجُلِ يَجْحَدُ الطَّلاَقَ
باب: مرد کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے (اور بیوی اس کا دعویٰ کرتی ہو) تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التَّنِّيسِيُّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ زَوْجِهَا، فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا، فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ، وَإِنْ نَكَلَ، فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ وَجَازَ طَلَاقُهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے، اور طلاق پہ ایک معتبر شخص کو گواہ لائے (اور اس کا مرد انکار کرے) تو اس کے شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم کھا لے تو گواہ کی گواہی باطل ہو جائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے درجہ میں ہو گا، اور طلاق جائز ہو جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2038]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت خاوند سے طلاق مل جانے کا دعویٰ کرے اور ایک قابلِ اعتماد گواہ پیش کر دے تو اس کے خاوند سے قسم اٹھانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر اس نے قسم کھا لی (کہ میں نے طلاق نہیں دی) تو گواہ کی گواہی کالعدم ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے قسم سے انکار کیا تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے قائم مقام ہو جائے گا اور اس کی طلاق نافذ کر دی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8752، ومصباح الزجاجة: 719) (ضعیف)» (سند میں زہیر بن محمد ضعیف حافظہ والے راوی ہیں، اور ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
وعمرو بن أبي سلمة يروي بواطيل عن زهير بن محمد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
وعمرو بن أبي سلمة يروي بواطيل عن زهير بن محمد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452