🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابُ: هَلْ تُحِدُّ الْمَرْأَةُ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا
باب: کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2085
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2085]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کے سوا کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 9 (1491)، سنن النسائی/الطلاق 58 (3555)، (تحفة الأشراف: 16441)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/37، 148، 249)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2329) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2086]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کے سوا کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 9 (1490)، سنن النسائی/الطلاق 55 (3533)، (تحفة الأشراف: 15817)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/184، 286، 287) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا امْرَأَةٌ تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار (خوشبو) لگا لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2087]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، مگر بیوی اپنے خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ (اس دوران میں) وہ رنگین کپڑا نہ پہنے، مگر کچھ سفید کچھ رنگین کپڑا پہن سکتی ہے، اور سرمہ نہ لگائے، اور خوشبو نہ لگائے مگر (ماہواری سے فارغ ہو کر) غسل کے موقع پر تھوڑی سی «عُودُ الْہِنْدِيِّ» عود ہندی یا «أَظْفَارٍ» اظفار خوشبو استعمال کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 12 (1313، الجنائز 30 (1278)، الطلاق 47 (5339)، 49 (5342)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (938)، سنن ابی داود/الطلاق 46 (2302، 2303)، سنن النسائی/الطلاق 64 (3564)، 65 (3566)، (تحفة الأشراف: 18134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/65، 85، 408)، سنن الدارمی/ الطلاق 13 (2332) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شرم گاہ کی بدبو دور کرنے کے لئے تھوڑا سا خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں