🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ: الرَّجُلِ يَأْمُرُهُ أَبُوهُ بِطَلاَقِ امْرَأَتِهِ
باب: اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2088]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے وہ پسند تھی لیکن ابا جان اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الادب 129 (5138)، سنن الترمذی/الطلاق 13 (1189)، (تحفة الأشراف: 6701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/42، 53، 157) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا أَمَرَهُ أَبُوهُ أَوْ أُمُّهُ شَكَّ شُعْبَةُ، أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ، فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى وَيُطِيلُهَا وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى وَالِدَيْكَ أَوِ اتْرُكْ".
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2089]
حضرت ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کے والد یا والدہ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس نے سو غلام آزاد کرنے کی نذر مان لی۔ (اگر وہ بیوی کو طلاق دے تو سو غلام آزاد کرے گا۔) وہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ ضحیٰ (چاشت) کی نماز پڑھ رہے ہیں اور اسے طویل کرتے جاتے ہیں۔ (ظہر کی نماز کے بعد بھی) انہوں نے ظہر سے عصر تک (نفل) نماز ادا کی۔ (آخر جب موقع ملا تو) اس نے ان سے مسئلہ پوچھا۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر اور والدین کی فرمانبرداری کر۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ فرمان) سنا ہے: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ» باپ جنت کا درمیان والا دروازہ ہے۔ اب (تمہاری مرضی ہے) اپنے والدین کا خیال رکھو یا نہ رکھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البر و الصلة 3 (1900)، (تحفة الأشراف: 10948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/196، 197، 6/445، 447، 451) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت ایسی عمدہ چیز ہے، جن کی اطاعت سے جنت ملتی ہے، اور ظاہر ہے کہ جنت کی آدمی کو کتنی فکر ہونی چاہئے، پس ویسے ہی ماں باپ کی اطاعت کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں