🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : الرجل يأمره أبوه بطلاق امرأته
باب: اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2088]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے وہ پسند تھی لیکن ابا جان اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الادب 129 (5138)، سنن الترمذی/الطلاق 13 (1189)، (تحفة الأشراف: 6701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/42، 53، 157) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥حمزة بن عبد الله المدني، أبو عمارة
Newحمزة بن عبد الله المدني ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥الحارث بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبد الرحمن
Newالحارث بن عبد الرحمن القرشي ← حمزة بن عبد الله المدني
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← الحارث بن عبد الرحمن القرشي
ثقة فقيه فاضل
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1189
طلق امرأتك
سنن أبي داود
5138
طلقها
سنن ابن ماجه
2088
أمرني أن أطلقها فطلقتها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2088 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2088
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام طور پر والدین کو اولاد کی خوشی محبوب ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ اولاد کی خوشی کے لیےناگوار باتیں بھی برداشت کر لیتے ہیں۔
اس صورت میں اگر والدین اپنی بہو سے تنگ ہیں تو عموماً کوئی معقول وجہ ہوتی ہے۔
خاص طور پر والد بلا وجہ بیٹے کو یہ حکم نہیں دے سکتا کہ بیوی کو طلاق دے دے۔

(2)
والدین کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھنا والدین سے حسن سلوک میں شامل ہے
(3)
اگر والدین اپنے بیٹے کو ناجائز طور پر یہ حکم دیتے ہیں کہ بیوی کو طلاق دے دو تو بہتر ہے ادب و احترام سے والدین کو اپنی بات سمجھانےکی کوشش کی جائے۔
اگر وہ پھر بھی اپنی رائے پر اصرار کریں تو ان کے حکم کی تعمیل کی جائے۔
والدین کو غلط حکم دینے کا گناہ ہو گا جب کہ بیٹے کو والدین کے حکم تعمیل کا ثواب ہو گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2088]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5138
ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو، لیکن میں نے انکار کیا، تو عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے طلاق دے دو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5138]
فوائد ومسائل:
باپ کا یہ مقام اور حق ہے۔
کہ اگر وہ بیتے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔
تو اسے یہ حکم ماننا چاہیے، مگرشرط یہ ہے کہ باپ جو اپنے بیتے سے بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کررہا ہے۔
خود حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صفات کا حامل ہو۔
اور اس میں کوئی ہوائے نفس اور تعصب کی بات نہ ہو۔
صرف شرعی مصلحت پیش نظر ہو جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آتا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5138]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1189
باپ لڑکے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی، میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے۔ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: عبداللہ بن عمر! تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1189]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ روایت اس بات پرواضح دلیل ہے کہ اگرباپ بیٹے کوحکم دے کہ وہ اپنی بیوی کوطلاق دے دے تو اسے طلاق دے دینی چاہئے گو وہ اسے بہت چاہتا ہواورماں،
باپ کے حکم میں بدرجہ اولیٰ داخل ہوگی اس لیے کہ بیٹے پر اس کا حق باپ سے بڑھ کر ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1189]

Sunan Ibn Majah Hadith 2088 in Urdu