🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ: لِصَاحِبِ الْحَقِّ سُلْطَانٌ
باب: قرض خواہ کو یہ حق ہے کہ وہ مقروض کو سخت سست کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَيْنٍ أَوْ بِحَقٍّ، فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلَامِ فَهَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ، إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اور کچھ (نامناسب) الفاظ کہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2425]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض واپس مانگنے آیا، یا کسی اور مالی حق کا مطالبہ کرنے آیا۔ اس نے کچھ (نامناسب) الفاظ کہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی تادیب کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رک جاؤ، قرض والے کو اپنے ساتھی (مقروض) پر اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ادائیگی نہ کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6031، ومصباح الزجاجة: 851) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (حنش کے بارے میں بخاری نے کہا کہ اس کی احادیث بہت زیادہ منکر ہیں، اس حدیث کو لکھا نہیں جائے گا، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 318)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
حنش: حسين بن قيس الرحبي: متروك
وبه ضعفه البوصيري ولبعض الحديث شاهد حسن عند البزار (كشف الأستار 104/2 ح 1307)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2426
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ لَهُ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلَّا قَضَيْتَنِي. فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا: وَيْحَكَ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ؟ قَالَ: إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ"، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهَا:" إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَضَتْهُ. فَقَضَى الْأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَ أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، فَقَالَ:" أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ، إِنَّهُ لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے (یہ سن کر) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آ جائیں، تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کر دیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہو گی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2426]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک بدو (اعرابی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کسی قرض کا تقاضا کرنے آیا جو آپ کے ذمہ تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت لہجے میں بات کی، حتیٰ کہ یہاں تک کہہ دیا: اگر آپ ادا نہیں کریں گے تو میں آپ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کروں گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے دانٹا اور کہا: تجھ پر افسوس! کیا تجھے معلوم نہیں تو کس سے مخاطب ہے؟ اس نے کہا: میں تو اپنا حق مانگ رہا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے حق والے کا ساتھ کیوں نہ دیا؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا: اگر تمہارے پاس کھجوریں ہیں تو ہمیں قرض دے دو، ہماری کھجوریں آئیں گی تو ہم تمہارا قرض ادا کر دیں گے۔ انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، اے اللہ کے رسول! میں حکم کی تعمیل کروں گی۔ انہوں نے آپ کو (کھجوریں) قرض دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کا قرض ادا کیا اور اسے کھانا کھلایا۔ اس نے کہا: آپ نے مجھے پورا حق دے دیا، اللہ آپ کو پورا دے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ بہترین ہوتے ہیں۔ وہ قوم پاک نہیں ہوتی جس میں کمزور کو پریشان کیے بغیر اس کا حق نہ دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4021، ومصباح الزجاجة: 852) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا عدل و انصاف تھا، اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہ فرمایا کہ تم قرض خواہ کی مدد کرو، میری رعایت کیوں کرتے ہو، حق کا خیال اس سے زیادہ کیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی یہ ایک کھلی دلیل ہے، نبی کے علاوہ دوسرے سے ایسا عدل و انصاف ہونا ممکن نہیں ہے، دوسری روایت میں ہے کہ پھر وہ گنوار جو کافر تھا مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صابر نہیں دیکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں