یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : لصاحب الحق سلطان
باب: قرض خواہ کو یہ حق ہے کہ وہ مقروض کو سخت سست کہے۔
حدیث نمبر: 2426
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ لَهُ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلَّا قَضَيْتَنِي. فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا: وَيْحَكَ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ؟ قَالَ: إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ"، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهَا:" إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَضَتْهُ. فَقَضَى الْأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَ أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، فَقَالَ:" أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ، إِنَّهُ لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے (یہ سن کر) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: ”تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ ”اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آ جائیں، تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے“، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کر دیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہو گی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2426]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک بدو (اعرابی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کسی قرض کا تقاضا کرنے آیا جو آپ کے ذمہ تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت لہجے میں بات کی، حتیٰ کہ یہاں تک کہہ دیا: ”اگر آپ ادا نہیں کریں گے تو میں آپ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کروں گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے دانٹا اور کہا: ”تجھ پر افسوس! کیا تجھے معلوم نہیں تو کس سے مخاطب ہے؟“ اس نے کہا: ”میں تو اپنا حق مانگ رہا ہوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے حق والے کا ساتھ کیوں نہ دیا؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا: ”اگر تمہارے پاس کھجوریں ہیں تو ہمیں قرض دے دو، ہماری کھجوریں آئیں گی تو ہم تمہارا قرض ادا کر دیں گے۔“ انہوں نے کہا: ”میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، اے اللہ کے رسول! میں حکم کی تعمیل کروں گی۔“ انہوں نے آپ کو (کھجوریں) قرض دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کا قرض ادا کیا اور اسے کھانا کھلایا۔ اس نے کہا: ”آپ نے مجھے پورا حق دے دیا، اللہ آپ کو پورا دے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ بہترین ہوتے ہیں۔ وہ قوم پاک نہیں ہوتی جس میں کمزور کو پریشان کیے بغیر اس کا حق نہ دیا جائے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4021، ومصباح الزجاجة: 852) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا عدل و انصاف تھا، اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہ فرمایا کہ تم قرض خواہ کی مدد کرو، میری رعایت کیوں کرتے ہو، حق کا خیال اس سے زیادہ کیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی یہ ایک کھلی دلیل ہے، نبی کے علاوہ دوسرے سے ایسا عدل و انصاف ہونا ممکن نہیں ہے، دوسری روایت میں ہے کہ پھر وہ گنوار جو کافر تھا مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صابر نہیں دیکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2426
| لا قدست أمة لا يأخذ الضعيف فيها حقه غير متعتع |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2426 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2426
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرض خواہ کوسختی کا حق حاصل ہے لیکن افضل یہی ہے کہ تقاضا کرنے میں بھی نرمی کی جائے اورمقروض کو مناسب مہلت دےدی جائے۔ دیکھیے: (حدیث: 2431، 2417)
(2)
جاہلوں کےغلط رویے کا جواب سختی سےنہ دیا جائے بلکہ برداشت کیا جائے۔
(3)
حق دار کواس کا حق اورقرض خواہ کواس کا قرض بن مانگے ادا کرنا چاہیے۔
یہ انتظار نہ کیا جائے کہ وہ جب مانگے گا، تب دے دیں گے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قرض خواہ کوسختی کا حق حاصل ہے لیکن افضل یہی ہے کہ تقاضا کرنے میں بھی نرمی کی جائے اورمقروض کو مناسب مہلت دےدی جائے۔ دیکھیے: (حدیث: 2431، 2417)
(2)
جاہلوں کےغلط رویے کا جواب سختی سےنہ دیا جائے بلکہ برداشت کیا جائے۔
(3)
حق دار کواس کا حق اورقرض خواہ کواس کا قرض بن مانگے ادا کرنا چاہیے۔
یہ انتظار نہ کیا جائے کہ وہ جب مانگے گا، تب دے دیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2426]
Sunan Ibn Majah Hadith 2426 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري