🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: الرَّهْنِ
باب: حدثنا ابوبکر بن أبی شیبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2436
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ قرض پر خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2436]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ ادھار خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 14 (2068)، 33 (2096)، 88 (2200)، السلم 5 (2251)، 6 (2252)، الاستقراض 1 (2386)، الرھن 2 (2509)، 5 (2513)، الجہاد 89 (2916)، المغازي 86 (4467)، صحیح مسلم/البیوع 45 (1603)، سنن النسائی/البیوع 56 (4613)، (تحفة الأشراف: 15948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/42، 160، 237) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: رہن کہتے ہیں گروی رکھنے کو یعنی کوئی چیز کسی کے پاس بطور ضمانت رکھ کر اس سے قرض لینا، گروی رکھنے والے کو راہن اور گروی رکھ کر قرض دینے والے کو مرتہن اور جو چیز گروی رکھی جائے اس کو رہن یا مرہون کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَأَخَذَ لِأَهْلِهِ مِنْهُ شَعِيرًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی، اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2437]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ کر اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو حاصل کیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 14 (2069)، الرھن 1 (2508)، سنن الترمذی/البیوع 7 (1215)، سنن النسائی/البیوع 57 (4614)، (تحفة الأشراف: 1355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/133، 208، 232) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُوُفِّيَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِطَعَامٍ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2438]
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15774، ومصباح الزجاجة: 858)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/453، 457) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب: ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2439]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6239)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 7 (1214)، سنن النسائی/البیوع 81 (4655)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624)، مسند احمد (1/236، 300، 301، 361) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں