🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ: تَلْقِيحِ النَّخْلِ
باب: کھجور کے درخت میں پیوند کاری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَرَأَى قَوْمًا يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟، قَالُوا: يَأْخُذُونَ مِنَ الذَّكَرِ فَيَجْعَلُونَهُ فِي الْأُنْثَى، قَالَ: مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا فَبَلَغَهُمْ، فَتَرَكُوهُ فَنَزَلُوا عَنْهَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ الظَّنُّ، إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوهُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَإِنَّ الظَّنَّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ اللَّهُ: فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں“؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا“، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرا گمان تھا، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (تو وہ غلط نہیں ہو سکتا ہے) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2470]
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجوروں کے ایک باغ میں سے گزرا تو آپ نے دیکھا کہ لوگ کھجوروں کو پیوند لگا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”نر درخت (کے گابھے) سے لے کر مادہ درخت کے (پھولوں کے خوشے کے) اندر رکھ رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ ارشاد معلوم ہوا تو یہ کام چھوڑ کر درختوں سے اتر آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: ”یہ تو (میرا) خیال تھا۔ اگر اس سے فائدہ ہوتا ہے تو کر لیا کرو۔ میں تو تم جیسا انسان ہی ہوں اور (انسان کا) خیال غلط بھی ہو سکتا ہے اور صحیح بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میں جس مسئلے میں تمہیں یوں کہوں: اللہ نے فرمایا، تو میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفضائل 38 (2361)، (تحفة الأشراف: 5012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/162) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا فَقَالَ:" مَا هَذَا الصَّوْتُ" قَالُوا: النَّخْلُ يُؤَبِّرُونَهَا، فَقَالَ:" لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلَحَ" فَلَمْ يُؤَبِّرُوا عَامَئِذٍ فَصَارَ شِيصًا، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أُمُورِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں تو پوچھا: ”یہ کیسی آواز ہے“؟ لوگوں نے کہا: لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے ہیں ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کریں تو بہتر ہو گا“ چنانچہ اس سال ان لوگوں نے پیوند نہیں لگایا تو کھجور خراب ہو گئی، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دنیا کا جو کام ہو، اس کو تم جانو، البتہ اگر وہ تمہارے دین سے متعلق ہو تو اسے مجھ سے معلوم کیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2471]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ (لوگوں کی) آوازیں سنائی دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آواز کیسی ہے؟“ عرض کیا گیا: لوگ کھجوروں کو پیوند لگا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسے نہ کریں تو بھی درست ہے۔“ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سال پیوند نہ لگائے تو پھل بہت خراب آیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ صورت حال عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری دنیا کا کوئی معاملہ ہو تو اسے خود (اپنے تجربات اور رائے کی روشنی میں) انجام دے لیا کرو۔ اگر تمہارے دین کا معاملہ ہو تو میری طرف رجوع کیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 38 (2363)، (تحفة الأشراف: 338، 16875)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/123، 152) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «تأبیر» یا «تلقیح» : نر کھجور کے شگوفے (کلی) مادہ کھجور میں ڈالنے کو «تلقیح» یا «تأبیر» کہتے ہیں، ایسا کرنے سے کھجور کے درخت خوب پھل لاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں