🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ: مَنْ أَصَابَ رِكَازًا
باب: جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2509
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ وأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2509]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدفون خزانے میں پانچواں حصہ (زکاۃ فرض) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، سنن ابی داود/الخراج 40 (3085)، سنن الترمذی/الأحکام 37 (1377)، سنن النسائی/الزکاة 28 (2497)، (تحفة الأشراف: 13128، 15147)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 66 (1499)، المساقاة 3 (2355)، الدیات 28 (6912)، 29 (6913)، موطا امام مالک/ العقول 18 (12)، مسند احمد (2/228، 229، 254، 274، 285، 319، 382، 386، 406، 411، 414، 454، 456، 467، 475، 482، 482، 495، 499، 501، 507)، سنن الدارمی/الزکاة 30 (1710)، الدیات 9 (2422) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «رکاز» کان کو کہتے ہیں، اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ کافروں کے دفینہ یعنی خزانہ کو «رکاز» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2510]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدفون خزانے میں پانچواں حصہ (زکاۃ) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6129، ومصباح الزجاجة: 889)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/314، 3/180) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْم بْنُ حَيَّانَ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا، فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ بِمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ، قَالَ: فَأَنْكِحَا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَلْيَتَصَدَّقَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع (بیچنے والے) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس نے زمین خریدی تو اسے زمین میں سونے کا بھرا ہوا ایک ماٹ (بڑا مٹکا) ملا۔ اس نے (بیچنے والے سے) کہا: میں نے تجھ سے زمین خریدی ہے، سونا نہیں خریدا۔ (اس لیے یہ سونا تم لے لو۔) اس نے کہا: میں نے تجھے زمین بیچی اور جو کچھ اس میں تھا (وہ بھی ساتھ ہی بک گیا، اس لیے سونا تمہارا ہے۔) چنانچہ وہ ایک (تیسرے) آدمی کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے تو اس نے کہا: کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے۔ اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ اس (فیصلہ کرنے والے) نے کہا: لڑکے کا نکاح لڑکی سے کر دو۔ وہ دونوں اس مال میں سے اپنی ذات پر بھی خرچ کریں اور صدقہ بھی کریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12296)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3472)، صحیح مسلم/الأقضیة 11 (1721)، مسند احمد (2/316) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں