سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: الْمُكَاتَبِ
باب: مکاتب غلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ التَّعَفُّفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2518]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے تمام آدمیوں کی مدد اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے لی ہے: اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والا، وہ مکاتب جو ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ نکاح کرنے والا جس کا مقصد پاک دامن رہنا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد20 (1655)، سنن النسائی/الجہاد 13 (3123)، النکاح 5 (3220)، (تحفة الأشراف: 13039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/251، 437) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مکاتب: وہ لونڈی یا غلام جس سے مالک کہے کہ تم اتنا مال ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا“ (جب تک پورا ادا نہ کر دے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2519]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام سے سو اوقیے کے عوض مکاتبت کی گئی اور اس نے رقم ادا کر دی، صرف دس اوقیے اس کے ذمے رہ گئے تو وہ غلام ہی رہے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8673، ومصباح الزجاجة: 894)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق 1 (3927)، سنن الترمذی/البیوع 35 (1260) (حسن)» (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن متابعت کی وجہ سے یہحسن ہے، نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 1674)۔
وضاحت: ۱؎: اوقیہ: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، جو تقریباً ایک سو اٹھارہ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2520]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی عورت کا غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس ادا کرنے (اور آزاد ہو جانے) کے لیے رقم موجود ہو تو مالکہ کو اس سے پردہ کرنا چاہیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 1 (3928)، سنن الترمذی/البیوع 35 (1261)، (تحفة الأشراف: 18221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289) (ضعیف)» (سند میں نبہان مجہول راوی ہیں، نیز یہ حدیث اگلی حدیث کے مخالف بھی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي، قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلَاءَ لَهُمْ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" افْعَلِي"، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب (لونڈی) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء (میراث) میری ہو گی، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ (پیش کش) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء (میراث) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا کام کر ڈالو“، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: ”آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو (مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے) اسے آزاد کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2521]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں جبکہ ان کی مکاتبت ہو چکی تھی۔ ان کے مالکوں نے ان سے نو اوقیے پر مکاتبت (آزادی) کا معاہدہ کیا تھا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے انہیں کہا: ”اگر تمہارے مالکوں کی مرضی ہو تو میں پوری رقم ایک بار ہی ادا کر دوں بشرطیکہ ولاء کا حق مجھے حاصل ہو۔“ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکوں کے پاس جا کر اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ نہ مانے مگر اس شرط پر کہ ولاء انہی کے لیے ہوگا (انہوں نے اصرار کیا کہ ولاء کا حق انہی کو حاصل ہو گا۔) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاہدہ کر لو۔“ پھر (اس کے بعد) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا، (اس میں) اللہ کی حمد و ثنا کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں۔ ہر وہ شرط جو اللہ کی کتاب میں نہیں، وہ کالعدم ہے اگرچہ سو شرطیں ہوں۔ اللہ کی کتاب سچی ہے، اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے (جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔) ولاء اس کی ہوتی ہے جو (رقم ادا کر کے) آزاد کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المکاتب 3 (2563)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، (تحفة الأشراف: 17263)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 19 (2233)، سنن الترمذی/البیوع 33 (1256)، سنن النسائی/الطلاق 31 (3483)، موطا امام مالک/الطلاق 10 (25)، مسند احمد (6/46، 115، 123، 172، 191، 207)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2335) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مکاتب جب بدل کتابت کی ادائیگی سے عاجز ہو جائے تو وہ پھر غلام ہو جاتا ہے، اور اس کی بیع درست ہوجاتی ہے، اور بریرہ رضی اللہ عنہا کا یہی حال ہوا تھا، جب تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خرید کر کے آزاد کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم