سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: الْخَائِنِ وَالْمُنْتَهِبِ وَالْمُخْتَلِسِ
باب: خائن، لٹیرے اور چھین کر بھاگنے والوں کا حکم۔
حدیث نمبر: 2591
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُقْطَعُ الْخَائِنُ وَلَا الْمُنْتَهِبُ وَلَا الْمُخْتَلِسُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خائن، لٹیرے اور چھین کر بھاگنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2591]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے، نہ چھیننے والے کا اور نہ اچکنے والے کا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 13 (4391، 4392)، سنن الترمذی/الحدود 18 (1448)، سنن النسائی/قطع السارق 10 (4975)، (تحفة الأشراف: 2800)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/380)، سنن الدارمی/الحدود 8 (4988) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2592
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھین کر بھاگنے والے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2592]
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: ”اچکنے والے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9715، ومصباح الزجاجة: 917) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیب کترے کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ چوری کی تعریف اس پر صادق آتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح