🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: دِيَةِ الْخَطَإِ
باب: قتل خطا کی دیت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2630
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً، فَدِيَتُهُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةً وَعَشَرَةٌ بَنِي لَبُونٍ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَزْمَانِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ ثَمَنَهَا، وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ، فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاءِ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت (خون بہا) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی، اور چاندی کے حساب سے آٹھ ہزار درہم ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2630]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے قتل ہو جائے اس کی دیت تیس «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنیاں)، تیس «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنیاں)، تیس «حِقَّةٌ» (تین سالہ اونٹنیاں) اور دس «ابْنُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹ) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر والوں کے لیے اس کا اندازہ چار سو دینار یا اس کی ہم قیمت چاندی مقرر فرماتے تھے۔ نقد رقم کا یہ تعین اونٹوں (کے مہنگے یا سستے ہونے) کے زمانے کے مطابق ہوتا تھا۔ جب اونٹ مہنگے ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیمت (دیت کی نقد رقم) میں اضافہ فرما دیتے۔ اور جب سستے ہو جاتے تو ان کی قیمت (کی مقرر مقدار) میں کمی کر دیتے، اس وقت جیسی بھی کیفیت ہوتی (اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کی قیمت چار سو اور آٹھ سو دینار کے درمیان رہی یا اس کے برابر چاندی، یعنی آٹھ ہزار درہم، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس شخص کی دیت گایوں والے کے ذمے گایوں میں (واجب الادا) ہو تو دو سو گائیں (ادا کی جائیں) اور جس شخص کی دیت بکریوں والوں کے ذمے بکریوں میں (واجب الادا) ہو تو (اس کی دیت کے طور پر) دو ہزار بکریاں ادا کی جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 4 (4506)، سنن النسائی/القسامة 27 (4805)، (تحفة الأشراف: 8709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل (غلطی سے قتل) کی دیت بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے سال میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے سال میں لگ گئی ہوں، اور بیس اونٹ ہیں جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے سال میں لگ گئے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2631]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتلِ خطا کی دیت بیس «حِقَّے» (تین سالہ اونٹنیاں)، بیس «جَذَعے» (چار سالہ اونٹنیاں)، بیس «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنیاں)، بیس «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنیاں) اور بیس مذکر «اِبْنُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹ) ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4545)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1386)، سنن النسائی/القسامة 28 (4806)، (تحفة الأشراف: 9198)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 450)، سنن الدارمی/الدیات 13 (2412) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور زید بن جبیر متکلم فیہ راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4545) ترمذي (1386) نسائي (4806)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2632
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَمَا نَقَمُوا إِلا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة التوبة آية 74 قَالَ: بِأَخْذِهِمُ الدِّيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی، اور فرمان الٰہی «وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله» (سورۃ التوبہ: ۷۴) کفار اسی بات سے غصہ ہوئے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے انہیں مالدار کر دیا کا یہی مطلب ہے کہ دیت لینے سے ان (مسلمانوں) کو مالدار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2632]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی مقدار بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة التوبة: 74] کا یہی مطلب ہے: یہ صرف اس بات سے ناراض ہو رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یعنی انہوں نے دیت وصول کی (اور اس طرح دولت مند ہو گئے اس کے بعد بجائے شکر گزاری کا راستہ اختیار کرنے کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا راستہ اختیار کیا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر رقم: (2629) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں