سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: مِيرَاثِ أَهْلِ الإِسْلاَمِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ
باب: مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، المغازي 48 (4283)، الفرائض 26 (6764)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1614)، سنن ابی داود/الفرائض 10 (2909)، سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، (تحفة الأشراف: 113)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض13 (10)، مسند احمد (5/200، 201، 208، 209)، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3041) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ"، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ، قَالَ أُسَامَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے“؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں (ابوطالب کے انتقال کے وقت) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ مسلمان کافر کا وارث ہو گا، اور نہ ہی کافر مسلمان کا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں تشریف رکھیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان گھر چھوڑا ہے؟“ ابو طالب کی وراثت عقیل اور طالب کو ملی تھی اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں سے کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی وجہ سے کہا کرتے تھے: ”مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا۔“ اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث '' لایرث المسلم الکافر '' تقدم تخریجہ بالحدیث السابق (2729)، وحدیث '' وہل ترک لنا عقیل '' أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، الجہاد 180 (3058)، المغازي 48 (4282)، صحیح مسلم/الحج 80 (1351)، سنن ابی داود/المناسک (2010)، (تحفة الأشراف: 114)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض 13 (10)، مسند احمد (2/237، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3036) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مذہب والے (جیسے کافر اور مسلمان) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2731]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 8780)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفرائض 10 (2911)، سنن الترمذی/الفرائض 16 (2109)، مسند احمد (2/178، 195) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح