🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ: الْمُبَارَزَةِ وَالسَّلَبِ
باب: دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَحَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هُوَ يَحْيَى بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ:" سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ: لَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ سورة الحج آية 14 فِي حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ اخْتَصَمُوا فِي الْحُجَجِ يَوْمَ بَدْرٍ".
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: «هذان خصمان اختصموا في ربهم» (سورۃ الحج: ۱۹) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے «إن الله يفعل ما يريد» (سورۃ الحج: ۲۴) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2835]
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر فرماتے سنا: یہ آیت ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ﴾ [سورة الحج: 19] سے ﴿عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾ [سورة الحج: 22] یہ دونوں مخالف اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں... غزوہ بدر کے دن چھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب، حضرت علی بن ابی طالب اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم (ایک طرف)، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ (دوسری طرف)، جنگِ بدر کے دن یہ لوگ (حق و باطل کے) دلائل (کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے) کی وجہ سے ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 8 (3966، 3968)، تفسیر سورة الحج 3 (4743)، صحیح مسلم/التفسیر 7 (3033)، (تحفة الأشراف: 11974) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2836]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک آدمی کا مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان مجھے دلوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4529، ومصباح الزجاجة: 1006) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 173 (3051)، صحیح مسلم/الجہاد 13 (1754)، مسند احمد (4/45، 46)، سنن الدارمی/السیر 15 (2495) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَهُ سَلَبَ قَتِيلٍ قَتَلَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2837]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مقتول (کافر) کا ذاتی سامان دلوایا جسے انہوں نے جنگ حنین میں قتل کیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 37 (2100)، فرض الخمس 18 (3142)، المغازي 18 (4321، 4322)، الاحکام 21 (7170)، صحیح مسلم/الجہاد 13 (1751)، سنن ابی داود/الجہاد 147 (2717)، سنن الترمذی/السیر 13 (1562)، (تحفة الأشراف: 12132)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 10 (18)، مسند احمد (5/295، 296، 306)، سنن الدارمی/السیر 44 (2528) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2838
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ابْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ فَلَهُ السَّلَبُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (کسی کافر) کو قتل کرے، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2838]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (جنگ میں کسی کافر کو) قتل کرے تو اس (مقتول) کا ذاتی سامان اس (قاتل) کا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4622، ومصباح الزجاجة: 1007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے کپڑے ہتھیار سواری وغیرہ، امام کو اختیار ہے جب چاہے جنگ میں لوگوں کو رغبت دلانے کے لئے یہ کہہ دے کہ جو کوئی کسی کو مارے اس کا سامان وہی لے، یا کسی خاص ٹکڑی سے کہے تم کو مال غنیمت میں سے اس قدر زیادہ ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں